Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4133

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَلْقَاهُ البَحْرُ وَجَزَرَ عَنْهُ الْمَاءُ فَكُلُوْهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوْهُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: الأَكْثَرُوْنَ عَلٰى أَنَّهٗ مَوْقُوْفٌ عَلٰى جَابِرٍ.

وعن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما ألقاه البحر وجزر عنه الماء فكلوه، وما مات فيه وطفا فلا تأكلوه". رواه أبو داود وابن ماجه.
وقال محي السنة: الأكثرون على أنه موقوف على جابر.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو الزبیر سے ۱؎وہ حضرت جابر سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کو دریا پھینک دے اور اس سے پانی ہٹ جائے تو اسے کھالو اور جو دریا میں مرجائے اور وہ تیر جائے تو اسے نہ کھاؤ ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) اور محی السنہ نے فرمایا کہ اکثر محدثین اس پر ہیں کہ یہ حدیث حضرت جابر پرموقوف ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام محمد ابن مسلم ہے،مکی ہیں،حصرت حکیم ابن حزام کے آزادکردہ غلام ہیں،مکہ معظمہ کے تابعین میں سے ہیں،حافظ ہیں،ثقہ ہیں،وسیع العلم ہیں،حضرت جابر،عائشہ صدیقہ،ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے مگر اکثر حضرت جابر سے روایت لیتے ہیں۔ ۱۲۵ھ؁ ∞ ایک سو پچیس یا ایک سو اٹھائیس ہجری میں وفات پائی،آپ سے بہت محدثین نے روایات لیں۔ (مرقات،اشعہ)
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ جس مچھلی کی موت پانی نہ ملنے یا کم ملنے کی وجہ سے ہو تو وہ حلال ہے اور جس مچھلی کی موت بیماری کی وجہ سے ہو کہ پانی میں رہتے ہوئے مرجائے اور پانی پر تیر کر آجائے تو ممنوع ہے،یہ ہی حضرت امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے کہ طافی مچھلی مکروہ ہے،طافی اسی کو کہتے ہیں،امام شافعی و مالک رحمۃ اللہ علیہما اسے بلاکراہۃ جائز فرماتے ہیں،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔خیال رہے کہجزرکے معنی ہیں سمٹ جانا،اس کا مقابل ہےمَدّ،اسی سے ہےمد و جزر۔وہ جو حدیث شریف میں ہےحل میتتہدریا کا مردار حلال ہے تو وہاں دریا کے مردار سے مراد وہ ہی ہے جس کی موت کا سبب دریا بنے نہ وہ جس کی موت کا سبب کوئی مرض و بیماری ہو۔ابھی جو حدیث گزری کہ دو مردار حلال ہیں یہ حدیث اس کی شرح ہے کہ دریا کا وہ مردار مراد ہے جو دریا کی وجہ سے مرے۔
۳
؎کوئی مضائقہ نہیں اس قسم کی حدیث موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے اور اس پر حدیث مرفوع کے احکام جاری ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ امام شافعی صحابہ کرام کے اجتہادی مسائل میں ان کی پیروی نہیں کرتے،وہ فرماتے ہیںھم رجال ونحن رجالوہ بھی مرد تھے ہم بھی مرد ہیں مگر امام ابوحنیفہ تقلید صحابہ کو لازم جانتے ہیں ان کے اجتہادی مسائل پرعمل ضروری جانتے ہیں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4133