Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4129

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: يَوْمَ خَيْبَرَ- الْحُمُرَ الإِنْسِيَّةَ، وَلُحُوْمَ الْبِغَالِ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعنه قال: حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني: يوم خيبر- الحمر الإنسية، ولحوم البغال، وكل ذي ناب من السباع، وكل ذي مخلب من الطير. رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے دن ۱؎پالتوگدھے اور خچروں کے گوشت حرام فرمائے اور ہر کیل والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام فرمائے۲؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎فتح خیبر سے پہلے عرب میں گدھا کھانے کا رواج تھا،شروع اسلام میں بھی رہا،خیبر کے دن اسے حرام فرمایا گیاجیساکہ دوسری روایت میں ہے۔خیال رہے کہ حمار وحشی جنگلی گدھا جسے فارسی میں گورخر اور اردو میں نیل گائے کہتے ہیں وہ حلال ہے عمومًا اس کا شکار کیا اور کھایا جاتا ہے۔
۲
؎یعنی پنجے والے شکاری پرندے حرام فرمادیئے،جیسا کہ پہلی فصل میں گزر چکاہے۔
۳
؎یعنی اس اسناد اور ان الفاظ سے یہ حدیث غریب ہے ورنہ مسلم،بخاری نے حضرت براء ابن عازب جابر علی مرتضٰی ابن عمر ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایات کیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پالتو گدھے کھانے سے منع فرمایا اور صحاح ستہ میں ابو ثعلبہ سے روایت کی کہ حضور صلہ اللہ علیہ وسلم نے ہر کیل والے شکاری پرندے سے منع فرمایا اور احمد مسلم ابوداود ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر پنجہ والے شکاری پرندے سے منع فرمایا،یوں ہی بجّو کھانا حرام ہے جیساکہ احمد و اسحق نے ابو یعلیٰ موصلی عن عبداللہ ابن زید سے مرفوعًا روایت کی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4129