Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4111

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهٗ أَنَّهٗ دَخَلَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى مَيْمُوْنَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوْذًا، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ" قَالَ خَالِدٌ:فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس: أن خالد بن الوليد أخبره أنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على ميمونة وهي خالته وخالة ابن عباس، فوجد عندها ضبا محنوذا، فقدمت الضب لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده عن الضب فقال خالد: أحرام الضب يا رسول الله؟ قال: "لا، ولكن لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه" قال خالد:فاجتررته فأكلته ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر إلي. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ خالد ابن ولید نے انہیں خبردی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ میمونہ کے پاس گئے وہ ان کی اور ابن عباس کی خالہ ہیں ۱؎تو انکے پاس بھنی ہوئی گوہ پائی۲؎تو انہوں نے گوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گوہ سے اپنا ہاتھ اٹھالیا۳؎تب خالد بولے کیا گوہ حرام ہے فرمایا نہیں لیکن میری قوم کی زمین میں نہ تھی۴؎لہذا میں اپنے کو گھن کرتا پاتا ہوں،خالد فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کھینچ لیا تو میں نے گوہ کھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھ کو دیکھتے رہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ام المؤمنین بی بی میمونہ حضرت خالد کی بھی خالہ ہیں اور حضرت عبداللہ ابن عباس کی بھی خالہ ہیں،یہ جملہ معترضہ ہے جس میں وجہ بیان فرمائی کہ میں حضرت میمونہ کے پاس کیوں گیا۔
۲
؎عشویٰوہ گوشت ہے جو دیگچی میں بھونا گیا ہو اورمحنوذاوہ گوشت ہے جو گرم پتھر سے بھونا گیا ہے،قرآن کریم فرماتاہے: "جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیۡذٍ
۳
؎یعنی یہ گوشت نہ کھایا بلکہ چہرہ انور پرکراہت کے آثارنمودار ہوئے جس سے وہ سوال کیا گیا جو آئندہ مذکورہ ہے۔
۴
؎یعنی گوہ حرام شرعی نہیں لیکن مجھے اس سے نفرت طبعی ہے کیونکہ ہماری پرورش جناب حلیمہ کے ہاں ہوئی ہے وہاں گوہ نہ ہوتی تھی اس لیے ہم نے کبھی کھائی نہیں ہے اب کھانے کو دل نہیں چاہتا کراہۃ طبعی ہے۔
۵
؎اس حدیث کی بناء پر امام شافعی و دیگر ائمہ دین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا کہ گوہ حلال ہے،امام اعظم قدس سرہ کے نزدیک ممنوع۔وہ حضرات فرماتے ہیں کہ اگرحرام ہوتی تو حضور انور کے سامنے نہ کھائی جاتی،امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ حدیث آگے آرہی ہے۔جب اباحت اور ممانعت میں تعارض ہو تو ترجیح ممانعت کی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4111