Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4144

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهٗ يُقَدِّمُ السَّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا وقع الذباب في الطعام فامقلوه، فإن في أحد جناحيه سما وفي الآخر شفاء، وإنه يقدم السم ويؤخر الشفاء". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کھانے میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو کہ اس کے ایک بازو میں زہر دوسرے میں شفا ہے اور وہ زہریلا بازو آگے ڈالتی ہے شفا والا پیچھے رکھتی ہے ۱؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ مکھی حرام نہیں،ہاں اس سے طبیعت گھن کرتی ہے اور یہ مضر بھی ہے اس وجہ سے کھانا ممنوع ہے، بعض بیماریوں میں مکھی کا پاخانہ پتاشے میں رکھ دیا جاتا ہے،فقیر نے بھی یہ دیکھا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4144