Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4128

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ وَأَكْلِ ثَمَنِهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن جابر: أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل الهرة وأكل ثمنها. رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد، ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎تمام آئمہ دین کا اس پر اتفاق ہے کہ بلی کھانا حرام ہے البتہ اس کی فروخت اور اسکی قیمت کے متعلق علماء کا اختلاف ہے،بعض کے نزدیک بلی کی قیمت بلاکراہت جائز ہے،بعض کے نزدیک مکروہ ہے،یہ حدیث مکروہ فرمانے والوں کی دلیل ہے اس کی بحثکتاب البیوعمیں گزرچکی۔خیال رہے کہ بلی شکاری جانور بھی ہے اور کیل والی بھی لہذا اس قاعدے سے بھی حرام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کیل والے شکاری جانور کھانے سے منع فرمایا یہ حدیث ابن ماجہ اور حاکم نے بھی روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4128