Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4135

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ: "إِنَّهٗ يُؤْذِنُ لِلصَّلَاةِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن زيد بن خالد قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سب الديك وقال: "إنه يؤذن للصلاة". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خالد ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ۱؎اور فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع دیتا ہے ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎دیكاسم جنس ہے واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے بمعنی مرغ نر،مادہ کودجاجہکہتے ہیں یعنی مرغ کو نہ برا کہو نہ برا سمجھو،یہ بڑا مبارک جانور ہے۔
۲
؎یعنی نماز تہجد اور نماز فجر کے لیے اٹھاتا ہے۔مرغ میں قدرت نے عجیب کرشمہ رکھا ہے کہ یہ رات کے اوقات سے خبردار رہتا ہے،رات لمبی ہو یا چھوٹی آخری تہائی رات میں بھی بولتا ہے اور صبح صادق کے وقت بھی،حتی کہ بعض علماء نے مجرب مرغ کی آواز پر نماز تہجد پڑھنا جائز فرمایا اور کہا کہ اس کی آواز پر اعتماد جائز ہے،بعض صحابہ کرام سفر میں مرغ ساتھ رکھتے تھے نمازوں کے لیے۔ سفید مرغ کے بڑے فضائل ہیں اس کا گوشت اور دل بہت ہی قوی ہوتا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4135