Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4117

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوْا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ" قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ:فَبَيْنَا أَنَا أُطُارِدُ حَيَّةً أَقْتُلَهَا، نَادَانِي أَبُوْ لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلْهَا. فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ. فَقَالَ: إِنَّهٗ نَهٰى بَعْدَ ذٰلِكَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوْتِ وَهُنَّ العَوَامِرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يطمسان البصر، ويستسقطان الحبل" قال عبد الله:فبينا أنا أطارد حية أقتلها، ناداني أبو لبابة: لا تقتلها. فقلت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بقتل الحيات. فقال: إنه نهى بعد ذلك عن ذوات البيوت وهن العوامر. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ سانپوں کو مارو ۱؎خصوصًا دو دھاری والے کو اور بنڈے کو ۲؎کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کردیتے ہیں اور حمل گرادیتے ہیں۳؎عبداللہ فرماتے ہیں۴؎اس دوران میں کہ میں ایک سانپ پر حملہ کررہا تھا کہ اسے مار ڈالوں مجھے ابولبابہ نے پکارا کہ اسے نہ مارو تو میں نے کہا رسول اللہ نے سانپوں کے قتل کا حکم دیا ہے وہ بولے کہ اس کے بعد حضور انو رنے گھر والے سانپوں سے منع فرمایا یہ سانپ گھر والے ہیں۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر قسم کے سانپ قتل کردو موٹے پتلے،کالےپیلے،گوبرے اور غیر گوبرے۔
۲
؎طفیہبمعنی دہاری،یہ ایک قسم کا کالا سانپ ہے اس کے جسم پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں،یہ خبیث ترین سانپ ہے۔بنڈا وہ سانپ جس کی دم موٹی اور چھوٹی ہوتی ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب سانپ کی عمر دو سو سال ہوجاتی ہے تو اس کی دم موٹی پڑجاتی ہے اور بہت ہی زہریلا ہوجاتا ہے۔والله اعلم!اللہ تعالٰی دونوں سے محفوظ رکھے۔
۳
؎یعنی اگر انسان کی نظر ان کی نظر سے مل جائے تو آدمی اندھا ہوجاتا ہے اور اگر حاملہ عورت کی نظر اس کی نظر سے لڑجائے تو اس کا حمل گرجاتا ہے یا خوف کی وجہ سے یا زہر کے اثر سے۔اللہ کی پناہ! یہاں مرقات نے لکھا ہے کہ ایک سانپ ناظر کہلاتا ہے وہ جس جاندار کو دیکھ لے وہ مرجاتا ہے،ہم نے سنا ہے کہ ایک سانپ کا یہ حال ہے کہ جس جاندار کو دیکھ لے وہ پانی ہوکر بہہ جاتا ہے۔اللہ کی پناہ!
۴
؎محدثین جب عبداللہ مطلقًا بولتے ہیں تو عبداللہ بن مسعود مراد لیتے ہیں مگر یہاں عبداللہ ابن عمر مراد ہیں کیونکہ ابھی ان کا نام شریف بھی گزرا۔(مرقات)
۵
؎یعنی جو سانپ گھروں میں رہتے ہیں بستے ہیں کسی کو تکلیف نہیں دیتے وہ جنات ہیں سانپ نہیں،یہ حکم یا تو مدینہ منورہ کے لیے ہے یا عام مکانوں کے لیے۔حضرت ابوہریرہ و ابن مسعود سے مرفوعًاروایت ہے کہ سانپ کو مارنا ایسا ثواب ہے جیسے غازی کا کافر کو قتل کرنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4117