Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4134

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: "أَكْثَرُ جُنُوْدِ اللّٰهِ، لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدُ، وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: ضَعِيفٌ.

وعن سلمان قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الجراد فقال: "أكثر جنود الله، لا آكله ولا أحرمه". رواه أبو داود، وقال محي السنة: ضعيف.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا ۱؎گیا تو فرمایا کہ اللہ کا بڑا لشکر ہے۲؎میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں۳؎(ابوداؤد)محی السنہ نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎کہ ان کے پیدا فرمانے میں کیا حکمت ہے اور ان کا کھانا حلال ہے یا حرام۔
۲
؎یعنی پرندوں میں سب سے بڑی جماعت ٹڈیوں کی ہے اور جب خدا تعالٰی کسی قوم پر غضب کرتا ہے تو اس پر ٹڈی کا عذاب بھیجتا ہے،یہ اس قوم کی کھیتی باڑی،درخت،پھل وغیرہ سب کچھ کھا جاتی ہیں اور اس پر قحط مسلط ہوجاتا ہے،ورنہ رب کی بڑی سے بڑی مخلوق فرشتے ہیں،حق تعالٰی ان کے متعلق فرماتاہے:"وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ"۔(مرقات)
۳
؎یعنی ٹڈی شرعًا حرام نہیں ہم خود اسے کھاتے نہیں طبعًا اس سے نفرت ہے۔شاید سائل کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ حضور کھاتے ہیں یا نہیں اور ہم کھائیں یا نہیں،لہذا جواب بالکل مطابق ہوگیا کہ ہم نہیں کھاتے تم کھاؤ۔خیال رہے کہ ٹڈی کے حلال ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہے۔
۴
؎یہ حدیث اسناد سے بھی ضعیف ہے اور معنی سے بھی،اسناد سے تو اس لیے کہ اس کے سارے راوی قوی و ثقہ نہیں،معنی سے اس لیے کہ بہت سی ان احادیث کے خلاف معلوم ہوتی ہے جن میں ٹڈی کی حلت صراحۃً مذکور ہے۔یہاں مرقات نے ٹڈی کے حلال ہونے کے متعلق بہت سی عجیب روایات بیان کیں۔چنانچہ فرمایا کہ حضرت مریم بنت عمران نے دعا کی تھی کہ مولٰی مجھے بغیرخون والا گوشت دے تو رب نے انہیں یہ ہی ٹڈی دی،آپ نے دعا کی کہ الٰہی اسے بغیر ماں کے دودھ کے زندہ رکھ اور بغیرکسی ہانکنے والے اور بغیر آواز کے ان میں تنظیم دے اور فرمایا کہ حضرت یحیی علیہ السلام عمومًا ٹڈی کھایا کرتے تھے اور فرمایا کہ حضور انورکی ازواج مطہرات ایک دوسری کو طباق بھرکر ٹڈیاں ہدیہ کرتی تھیں وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4134