Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4143

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الآخَرِ شِفَاءً، فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فامقلوه، فإن في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء، فإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء، فليغمسه كله". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو کیونکہ اس کے ایک بازو میں بیماری ہے دوسرے میں شفاء ہے ۱؎اور وہ اپنے اس بازو سے بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہے لہذا اس پوری کو ڈبو دو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث پہلےگزر چکی ہے اس کی شرح بھی کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالٰی نے بہت چیزوں بلکہ بہت جانوروں میں دو ضدیں جمع فرمادیں ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ تجربہ یہ ہے کہ مکھی شور بے وغیرہ میں اپنا بایاں بازو ڈالتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بائیں بازو میں زہر ہے داہنے میں شفاء۔مکھی کی خلقت میں چند عجیب چیزیں ہیں:(۱)اس میں زہر اور تریاق دونوں جمع ہیں(۲)وہ جانتی پہچانتی ہے کہ کس بازو میں زہر ہے کس میں تریاق اس لیے پہلے زہر یلا بازو ڈالتی ہے(۳)سفید کپڑے پر کالا پاخانہ کرتی ہے،کالے کپڑے پر سفید(۴)کدّو کے درخت پر بہت ہی کم بیٹھتی ہے اس لیے یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے باہر آنے پر کدو کے درخت کے نیچے رکھا گیا جیساکہ قرآن مجید میں ہے تاکہ آپ مکھیوں سے محفوظ رہیں(۵)وہ گندی اور عفونت کی جگہ میں بہت ہوتی ہے مگر زمانہ حج میں منٰی شریف میں نہیں ہوتی حالانکہ وہاں قربانیوں،حاجیوں کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے گندگی و عفونت بہت ہوتی ہے(۶)اتنی بہادر ہے کہ بادشاہوں کے منہ و سر پر بے تکلف جا بیٹھتی ہے،اس سے متکبرین کا تکبر ٹوٹتا ہے،یہ ہی جواب امام شافعی نے مامون رشید کو دیا تھا جب اس نے پوچھا تھا کہ مکھی کیوں پیدا کی گئی(۷)اس کی عمر چالیس دن ہوتی ہے(۸)سوا شہد کی مکھی کے باقی تمام مکھیاں دوزخ میں ہوں گی دوزخیوں کو عذاب دینے کے لیے (۹)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے جسم اطہر اور آپ کے کپڑوں پر کبھی مکھی نہ بیٹھی(۱۰)یہ ہضم نہیں ہوتی اگر پیٹ میں چلی جائے تو انسان کو قے ہوجاتی ہے۔ (مرقات)
۲
؎معلوم ہوا کہ مکھی ڈوب کر مرجانے سے پانی یا شوربا،دودھ وغیرہ نہ تو ناپاک ہوتا ہے نہ حرام بلکہ وہ پاک رہتا ہے حلال رہتا ہے کہ مکھی میں خون نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4143