Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4139

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا سَالَمْنَاهُمْ مُنْذُ حَارَبْنَاهُمْ، وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُمْ خِيفَةً فَلَيْسَ منَّا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما سالمناهم منذ حاربناهم، ومن ترك شيئا منهم خيفة فليس منا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب سے ہم نے سانپوں سے جنگ کی پھر صلح نہ کی ۱؎اور جوکوئی ان میں سےکسی سانپ کو چھوڑ دے ڈرتے ہوئے تو ہم میں سے نہیں۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے سانپ جنت میں رہتا تھا،نہایت خوبصورت تھا،شیطان جب جنت سے نکالا گیا تو وہ سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں گیا اور حضرت آدم علیہ السلام کو دھوکا دیا،انہیں گندم کھلایا،رب تعالٰی نے فرمایا: "اھۡبِطُوۡا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ"اے آدم تم اور حوا اور سانپ جنت سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن رہیں گے، یعنی انسان سانپ کا دشمن اور سانپ انسان کا دشمن،تب سے ہماری اور سانپ کی دشمنی قائم ہے،مشرکین سانپ کے فوٹو کو تو پوجتے ہیں اصلی سانپ سے بھاگتے ہیں اسے مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔(ازمرقات)
۲
؎اس کا مطلب بھی وہی ہے کہ جو ناگن کے بدلہ کے ڈر سے سانپ کو نہ مارے وہ میری سنت میرے طریقہ سے الگ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4139