Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4122

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةٍ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللّٰهُ تَعَالٰى إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قرصت نملة نبيا من الأنبياء، فأمر بقرية النمل فأحرقت، فأوحى الله تعالى إليه: أن قرصتك نملة أحرقت أمة من الأمم تسبح؟ ". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا ۱؎تو انہوں نے چیونٹیوں کی بستی جلانے کا حکم دیا جلادی گئی۲؎تو اللہ تعالٰی نے انہیں وحی کی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور آپ نے امتوں میں سے ایک امت کو جلادیا جو تسبیح پڑھتی ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وہ نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں،بعض شارحین نے فرمایا وہ نبی داؤد علیہ السلام ہیں۔عربی میں نوچنے کوقرصکہتے ہیں اور کاٹ کھانے کوعضمگر یہاںقرصبمعنیعضہے کہ چیونٹی کاٹتی ہے نوچتی نہیں۔(مرقات) خیال رہے کہعضمنہ سے کاٹ کھانے کو کہتے ہیں،چھری چاقو سے کاٹ ڈالنے کوقطع،پھاڑ دینے کوخرق، توڑ دینے کوکسرکہتے ہیں،یہ اصطلاحیں خیال میں رہنی چاہئیں۔فرق باریک ہے ڈسنے کولدغکہتے ہیں۔
۲
؎چیونٹیوں کی بستی سے مراد ان کے اجتماع کی جگہ ہے جہاں بہت چیونٹیاں رہتی ہیں،یہاں مرقات نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا تھا کہ مولیٰ تو کفار کی بستیوں پر عذاب بھیجتا ہے حالانکہ ان میں بعض مؤمنین بلکہ صالحین بھی ہوتے ہیں وہ کیوں تباہ کردیئے جاتے ہیں تب وہ ایک درخت کی جڑ میں گئے ٹھنڈی ہوا تھی سوگئے سوتے ہی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا جس سے انکی نیند اچاٹ ہوگئی تب انہوں نے وہ چیونٹیوں کا کھڈ ہی جلوادیا یعنی رب تعالٰی نے خود ہی ان کے عمل شریف سے ان کو جواب سمجھادیا۔ (مرقات)
۳
؎ان کے دین میں موذی جانوروں کا زندہ جلادینا جائز ہوگا اس لیے ان پر عتاب نہ ہوا،اسلام میں زندہ کو جلانا ممنوع ہے،نیز ہمارے ہاں چار جانوروں کو مارنا ممنوع ہے جن میں چیونٹی بھی ہے جیساکہ دوسری فصل میں آوے گا۔خیال رہے کہ اگر موذی جانور کو بغیر زندہ جلائے مارنا ممکن نہ ہو تو اسے جلا ڈالنا جائز ہے۔ (مرقات)جیسے چار پائی کے کھٹمل،سوراخ میں گھسا ہوا سانپ جو کھولتے پانی سے مارے جاتے ہیں یا بھڑوں کا چھتہ جو آگ سے جلایا جاتا ہے کہ اس کے بغیر ان کو مارنا ممکن نہیں اگرچہ ہر چیز رب تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے،مگر چیونٹی تسبیح بھی کرتی ہے اور بے ضرربھی ہے،جو چیونٹی نقصان پہنچائے یا کاٹ کھائے اسے مار دینا جائز ہے،کبھی چیونٹی کا کاٹا جوں سے زیادہ سخت ہوتا ہے اس کا قتل جائز ہے جیسے بلی کا قتل جائزنہیں لیکن موذی بلی کا قتل جائز ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4122