Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4119

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ شَرِيكٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ: "كَانَ يَنْفُخُ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم شريك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بقتل الوزغ وقال: "كان ينفخ على إبراهيم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام شریک سے ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گرگٹوں کے مارنے کا حکم دیا ۲؎کہ وہ حضرت ابراہیم پر پھونکیں مارتا تھا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ام شریک دو ہیں اور دونوں صحابیہ ہیں،ایک کا نام عزمہ بنت دہ دان ہے،قرشیہ عامریہ ہیں،لوی ابن غالب کی اولاد سے،دوسری انصاریہ ہیں خبر نہیں یہ کون سی ام شریک ہیں۔(مرقات و اشعہ)مگر یہ بے خبری مضر نہیں کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔
۲
؎وزغجمع ہےوزغۃکی بمعنی گرگٹ،مشہور جانور ہے چھپکلی سے کچھ بڑا ہوتا ہے،دم لمبی ہوتی ہے،رنگ بدلتا ہے،سبزیوں میں رہتا ہے۔
۳
؎یعنی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرودی آگ میں ڈالا گیا تو یہ مردود آگ سے میلوں دور بیٹھا ہوا آگ کی طرف پھونکیں مار رہا تھا کہ آگ تیز ہوکر حضرت ابراہیم کو تکلیف پہنچے،اگرچہ اس کی پھونک سے آگ تیز نہ ہوگئی وہ تو گلزار کردی گئی مگر اس حرکت سے اس کی دل کی حالت معلوم ہوگئی کہ یہ دشمن خلیل ہے اس لیے اس کو مار دینے کا حکم دیا گیا،اس کے برعکس ہدہد اپنی لمبی چونچ میں پانی لاتا دور سے آگ پر ڈال دیتا تھا کہ آگ بجھ جائے،اس کو پانی کا بادشاہ کردیا گیا کہ اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کا مصاحب بنایا گیا، اس کے ذریعہ ملکہ یمن بلقیس کو ہدایت دی گئی جیساکہ قرآن کریم سورۂ نمل میں مذکور ہے۔معلوم ہوا کہ عداوت نبی کا انجام برا ہے،محبت رسول کا انجام اچھا،یہ بھی معلوم ہوا جانوروں میں بھی بعض نبی کے محب ہیں بعض نبی کے دشمن،حضور فرماتے ہیں کہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے،عیر پہاڑ ہم سے بغض کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4119