Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4125

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُد.

وعن سفينة قال: أكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لحم حبارى. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے آزادکردہ غلام ہیں یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزادکردہ ہیں،ام المؤمنین نے آپ کو اس شرط پر آزاد کیا تھا کہ زندگی بھر حضور کی خدمت کریں۔آپ کا نام رباح یا مہران یا رومان ہے،ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک سفر میں تلوار،ڈھال نیزہ،کچھ اور سامان ان پر لاد دیا اور فرمایا تم ہماری سفینہ یعنی کشتی ہو تب سے آپ کا لقب سفینہ ہوگیا،آپ کے چار بیٹے ہیں،عبدالرحمن محمد،زیاد اور کثیر۔
۲
؎معلوم ہوا کہ بٹیر حلال ہے اس کا کھانا سنت ہے،نہایت سیدھا پرندہ ہے،عرب والے بے وقوف آدمی کو کہتے ہیںانت حباریتو تو نرا بٹیر ہے،حباریواحد بھی ہے جمع بھی ہے،مذکر بھی ہے مؤنث بھی اس کا الف اصلی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4125