Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4118

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي السَّائِبِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلوسٌ، إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهٖ حَرَكَةً فَنَظَرْنَا فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُوْ سَعِيدٍ يُصَلِّي، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هٰذَا البَيْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذٰلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهٖ فَاسْتَأْذَنَهٗ يَوْمًا، فَقَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنَّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ". فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهٗ، ثُمَّ رَجَعَ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةٌ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعَنَهَا بِهٖ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ، وَادْخُلِ الْبَيْتَ حتّٰى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهٖ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهٗ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَى أَيَّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى؟ قَالَ: فَجِئْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْنَا ذٰلِكَ لَهٗ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللّٰهَ يُحْيِيهِ لَنَا، فَقَالَ: "اسْتَغْفِرُوْا لِصَاحِبِكُمْ" ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ لِهٰذِهِ الْبُيُوْتِ عَوَامِرَ، فَإِذَا رَأيتُم مِنْهَا شَيْئًا فَحَرِّجُوْا عَلَيْهَا ثَلَاثًا، فَإِنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوْهُ فَإِنَّهٗ كَافِرٌ". وَقَالَ لَهُمْ: "اذْهَبُوْا فَادْفِنُوْا صَاحِبَكُمْ". وَفِي رِوَايَةٍ. قَالَ: "إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوْا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَاذِنُوْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاقْتُلُوْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي السائب قال: دخلنا على أبي سعيد الخدري فبينما نحن جلوس، إذ سمعنا تحت سريره حركة فنظرنا فإذا فيه حية فوثبت لأقتلها وأبو سعيد يصلي، فأشار إلي أن اجلس فجلست، فلما انصرف أشار إلى بيت في الدار، فقال: أترى هذا البيت؟ فقلت: نعم، فقال: كان فيه فتى منا حديث عهد بعرس، قال: فخرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الخندق، فكان ذلك الفتى يستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بأنصاف النهار، فيرجع إلى أهله فاستأذنه يوما، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "خذ عليك سلاحك فإني أخشى عليك قريظة". فأخذ الرجل سلاحه، ثم رجع، فإذا امرأته بين البابين قائمة، فأهوى إليها بالرمح ليطعنها به، وأصابته غيرة، فقالت له: اكفف عليك رمحك، وادخل البيت حتى تنظر ما الذي أخرجني، فدخل فإذا بحية عظيمة منطوية على الفراش، فأهوى إليها بالرمح فانتظمها به، ثم خرج فركزه في الدار، فاضطربت عليه، فما يدرى أيهما كان أسرع موتا: الحية أم الفتى؟ قال: فجئنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكرنا ذلك له، وقلنا: ادع الله يحييه لنا، فقال: "استغفروا لصاحبكم" ثم قال: "إن لهذه البيوت عوامر، فإذا رأيتم منها شيئا فحرجوا عليها ثلاثا، فإن ذهب وإلا فاقتلوه فإنه كافر". وقال لهم: "اذهبوا فادفنوا صاحبكم". وفي رواية. قال: "إن بالمدينة جنا قد أسلموا، فإذا رأيتم منهم شيئا فاذنوه ثلاثة أيام، فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتلوه فإنما هو شيطان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سائب سے ۱؎فرماتے ہیں ہم ابو سعید خدری کے پاس گئے اس دوران میں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے ان کے تخت کے نیچے حرکت سنی۲؎تو ہم نے دیکھا وہاں سانپ تھا میں اسے قتل کرنے کے لیے کودا اور جناب ابو سعید نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۳؎میں بیٹھ گیا جب وہ فارغ ہوئے تو گھر کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا فرمایا کیا تم اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو میں نے کہا ہاں فرمایا اس میں ہمارا ایک نو عروس جوان تھا۴؎فرماتے ہیں کہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خندق کی طرف گئے۵؎تو وہ جوان دوپہریوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت لیا کرتا تھااور اپنے گھر لوٹ جاتا تھا۶؎ایک دن اس نے حضور (صلی اللہ علیہ و سلم) سے اجازت مانگی تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنے ہتھیار لیتے جاؤ کیونکہ میں تمہارے متعلق قریظہ سے ڈرتا ہوں۷؎چنانچہ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لیے پھر چلا گیا اچانک اس کی بیوی دروازہ میں کھڑی تھی۸؎اس نے بیوی کی طرف نیزے کا اشارہ کیا تاکہ اسے مار دے اسے غیرت آگئی۹؎وہ بولی کہ اپنا نیزہ روک رکھو گھر میں جاؤ تاکہ خود دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے نکالا ہے۱۰؎چنانچہ وہ گیا تو ایک بڑا سانپ بستر پر کنڈلی مارے ہے(لہرارہا ہے)۱۱؎وہ اس سانپ کی طرف نیزہ لےکر جھکا اسے نیزہ میں پرولیا ۱۲؎پھر نکلا پھر گھر میں چبھولیا تو سانپ نے تڑپ کر اس پر حملہ کیا۱۳؎پھر خبر نہیں کہ ان دونوں میں جلدی کون مرا سانپ یا جوان۱۴؎راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا اور ہم نے عرض کیا۱۵؎کہ اللہ سے دعا فرمادیں کہ اسے ہمارے لیے زندہ فرمادے ۱۶؎فرمایا اپنے ساتھی کے لیے دعا بخشش کرو۱۷؎پھر فرمایا کہ ان گھروں میں کچھ جنات رہنے والے ہیں۱۸؎جب تم ان میں سے کچھ دیکھ لو تو ان پر تین دن تنگی کرو پھر اگر وہ چلا جائے تو خیر ورنہ اسے مار دو کہ وہ کافر ہے۱۹؎اور فرمایا کہ جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کردو ۲۰؎اور ایک رویت میں ہے کہ مدینہ میں کچھ جن ہیں جو مسلمان ہوچکے ہیں ۲۱؎تو جب ان میں سے کچھ دیکھو تو اسے تین دن تک خبردار کرو اگر وہ پھر اس کے بعد ظاہر ہو تو اسے مار دو کہ وہ شیطان ہے۲۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،ہشام ابن نمیرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں،مدینہ منورہ میں رہے۔
۲
؎یعنی ہم کو ان کے بستر پر سرسراہٹ محسوس ہوئی۔
۳
؎نماز میں اشارۃً کسی کو کچھ سمجھادینا ضرورۃً جائز ہے بلا ضرورۃً ممنوع،اشارہ ایسا نہ ہو جو مفسد نماز ہوتا ہے۔
۴
؎جس کی شادی نئی نئی ہوئی تھی،عرس بمعنی شادی،عروس دولہا دلہن دونوں کو کہتے ہیں۔
۵
؎غزوہ خندق کے موقعہ پر یہ جوان بھی خندق کھودنے پر مامور تھا ان کا نام معلوم نہ ہوسکا۔
۶
؎کیونکہ نیا دولہا تھا دوپہر میں آرام کرنے گھر جاتا تھا دن ڈھلے واپس آجاتا،اپنے کام یعنی خندق کھودنے میں لگ جاتا تھا۔
۷
؎قریظہ یہود کی وہ جماعت جو مدینہ منورہ کے قریب عوالی میں رہتی تھی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بدعہدی کی تھی کفار مکہ سے مل کراس جماعت نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کرائی تھی،ان لوگوں سے اندرونی حملہ کا ہر وقت ہی خطرہ رہتا تھا اس لیے یہ ارشاد فرمایا
۸
؎دروازے کی چوکھٹ کے دو بازوؤں کے درمیان کھڑی تھی اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔
۹
؎اگرچہ گلی میں اس وقت کوئی مرد نہ تھا جس سے بے پردگی ہو مگر اس غیرت مند صحابی کو غیرت آئی کہ میری بیوی ایسی جگہ کیوں آئی جہاں بے پردگی کا خطرہ ہو۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو اپنی بہو بیٹیوں کو بے پردہ پھراتے ہیں۔
۱۰
؎تاکہ تم کو پتہ لگے کہ میں مجبوری میں باہر نکلی ہوں،ایسی مجبوری میں پردہ لازم نہیں رہتا،زبان سے نہ بتایا بلکہ اسے دکھانے کی کوشش کی۔
۱۱
؎اب اس جوان کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی باہر کیوں نکلی تھی۔
۱۲
؎اس طرح کہ نیزہ سانپ کے جسم میں گھونپ دیا اور سانپ کو طوق کی طرح بنالیا،اسے اس ہار سے مشابہت دی گئی جس میں موتی پرولیے جائیں۔
۱۳
؎اس طرح کہ زخمی سانپ نے زور مارا اس کے برچھے سے الگ ہو کر جوان کو کاٹ لیا زخمی بلکہ لاٹھی کھایا ہوا سانپ ضرور حملہ کرتا ہے اس لیے سانپ کو مارنے والے اسے لاٹھی مارکر فورًا اپنی جگہ سے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ سانپ اچھل کر اس جگہ آگرتا ہے جہاں لاٹھی والا کھڑا ہو۔
۱۴
؎یعنی جوان فورًا ہی مرگیا سانپ کے ساتھ یا کچھ آگے پیچھے غیرمحسوس وقفہ سے،عرب کا سانپ عمومًا بہت ہی زہریلا ہوتا ہے،ہمارے ہاں بھی ریتیلے علاقوں کے سانپ بہت زہریلے ہوتے ہیں۔
۱۵
؎یہ واقعہ نقل فرمانے والے حضرت ابو سعید خدری ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں یہ واقعہ عرض کرنے والے عام حاضرین ہیں۔(مرقات)
۱۶
؎صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کبھی مردے زندہ کرنے کے متعلق عرض نہ کیا آج یہ عرض کرنا یا تو اس مرحوم نو عروس اور اس کی نئی نویلی دولہن پر ترس کھاتے ہوئے تھا یا وہ حضرات سمجھے کہ جوان مرا نہیں ہے بلکہ بے ہوش ہوگیا ہے،اشعۃ اللمعات نے دوسرا احتمال اختیار فرمایا۔
۱۷
؎یعنی اسے زندہ کرانے سے بہتر یہ ہے کہ رب تعالٰی سے اسے بخشواؤ،دعائے خیر دوبارہ زندگی سے افضل ہے۔خیال رہے کہ اس فرمان عالی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس معجزہ پر قادر نہیں ہیں،حضور کے دستِ اقدس پر کئی مردے زندہ ہوئے ہیں جس کو ہم نے اپنی کتب میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔والدین کریمین کو زندہ فرماکر انہیں مؤمن صحابی بنانا تو مشہور ہی ہے،حضرت شیخ نے مدارج النبوت میں مردے زندہ فرمانے کے واقعات بہت تفصیل سے بیان فرمائے ہیں جو ذات کریم بے جان لکڑیوں میں زندگی پیدا فرما کر کلمہ پڑھوا سکتی ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتی ہے۔
۱۸
؎یعنی آج کل مدینہ منورہ کے گھروں میں کچھ جنات بہ شکل سانپ رہتے ہیں جن میں سے بعض مؤمن بھی ہیں لہذا یہ حکم ہر جگہ کے لیے نہیں بلکہ خاص مدینہ منورہ کے لیے ہے،وہ بھی اسی زمانہ پاک کے لیے ہے جیساکہ ابھی اس روایت میں آرہاہے۔
۱۹
؎یعنی اگر تمہاری اس مہلت سے وہ فائدہ نہ اٹھائے گھر سے نہ بھاگے تو یا تو وہ واقعی سانپ ہی ہے یا کافر جن ہے پھر اسے مار دو۔
۲۰
؎اس کے کفن دفن کا انتظام کرو،پھر اس کی میت ہمارے پاس لاؤ ہم نمازجنازہ پڑھائیں گےکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر صحابی کی نماز جنازہ حتی الامکان خود پڑھاتے تھے۔
۲۱
؎اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حکم صرف مدینہ منورہ کے لیے تھا وہ بھی اس خاص زمانہ میں تھا جیسےمسلم انسان مدینہ کی گلیوں کو ترستے ہیں،یوں ہی اس زمانہ میں مؤمن جنات بھی وہاں رہنے کے خواہش مند تھے،ان کی رعایت فرماتے ہوئے یہ حکم دیا گیا تھا۔
۲۲
؎یعنی موذی سانپ ہے یا کافر جن ہے یا واقعی ابلیس کی ذریت ہے۔معلوم ہوا کہ جن وہ آتشی مخلوق ہے جو مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے۔خیال رہے کہ مدینہ منورہ میں اس زمانہ میں سانپ کو یہ مہلت دینے کا حکم استحبابی تھا وجوبی نہ تھا۔اگر کوئی مسلمان جن سانپ کی شکل میں ہو اور مسلمان کے ہاتھ مارا جائے تو مارنے والا مسلمان نہ تو گنہگار ہے نہ اس پر دیت یا قصاص ہے کیونکہ وہ غیرشکل میں مارا گیا ہے،یہ قتل مسلم نہیں بلکہ سانپ کا مارنا ہے جیسے کوئی شخص چور کی شکل میں اپنے کسی دوست کے گھر گھس جاوے گھر والا اپنی حفاظت کے لیے اسے ماردے،پھر پتہ لگے کہ یہ میرا فلاں دوست ہے جو دل لگی مذاق کے لیے چور کی شکل میں آیا تھا تو اس قاتل پر قصاص یادیت نہیں کیونکہ یہ قتل نہ تو قتل عمد ہے نہ قتل خطا یہ تو اپنی جان کی حفاظت میں دشمن کا قتل ہے یوں ہی جہاد میں غازی کسی مسلمان کو حربی کافر سمجھ کر مار دے تو اس پر قصاص یادیت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4118