Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4126

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا. رَوَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ:قَالَ: نَهٰى عَنْ رُكُوْبِ الْجَلَّالَةِ.

وعن ابن عمر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل الجلالة وألبانها. روه الترمذي، وفي رواية أبي داود:قال: نهى عن ركوب الجلالة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جلالہ کے کھانے اور ان کے دودھوں سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جلالہ کی سواری سے منع فرمایا۲؎

شرح حدیث

۱∞؎جلالہوہ گائے ہے جو بہت نجاست کھاتی ہےحتی کہ اس کے گوشت میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے،اس کا بدبودار گوشت،دودھ،کھانا،پینا مکروہ ہے۔اسے کچھ روز تک باندھ کر رکھا جائے جب اس کے جسم سے بو آنا بند ہو جائے تب ذبح کیا جائے۔امام مالک کے ہاں جلالہ کا گوشت بلاکراہۃ جائز ہے،وہ فرماتے ہیں کہ اس کا گوشت اچھی طرح دھولیا جائے،حضرت عبداللہ ابن عمر چھوٹی ہوئی مرغی کو تین دن باندھ کر رکھتے پھر ذبح فرماتے۔ جو جانور کبھی کبھی گندگی کھالے وہ جلالہ نہیں۔(مرقات)
۲
؎یہ ممانعت کراہت تنزیہی ہے کیونکہ جلالہ کا پسینہ بھی بدبودار ہوتا ہے،ممکن ہے کہ سوار کے کپڑے میں پسینہ لگے اور وہ بھی بدبودار ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4126