Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4123

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ، فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوْهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا وقعت الفأرة في السمن، فإن كان جامدا فألقوها وما حولها، وإن كان مائعا فلا تقربوه". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب چوہا گھی میں گرجائے تو اگر گھی جما ہوا ہو تو چوہا پھینک دو اور وہ جو اس کے آس پاس ہے ۱؎اور اگر پتلا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ ۲؎(احمد اورابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر چوہا جمے گھی میں گرکر مرجائے تو اسے نکال کر پھینک دو،اس سے متصل گھی بھی کھرچ کر پھینک دو اگر زندہ چوہا نکلا تو گھی پاک ہے۔
۲
؎بعض علماء نے اس کے معنی یہ کیے کہ اسے کسی طرح بھی ا ستعمال نہ کرو نہ کھانے میں نہ لگانے میں نہ چراغ جلانے میں،مگر حق یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کھانے کے قریب نہ جاؤ دوسری طرح اس کا استعمال درست ہے جیسے اس سے چراغ روشن کرنا،اگر تیل ناپاک ہوجائے تو اس کا صابن میں استعمال کرلینا۔ خیال رہے کہ اس حدیث کا مطلب وہ ہی ہے جو پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ پتلے ناپاک گھی کا آس پاس پھینک دینا کافی نہیں اسے اس طرح پاک نہیں کیا جاسکتا۔پتلا گھی،تیل،دودھ ان کے پاک کرنے کا وہ طریقہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ اسے پتلے پاک گھی کے ساتھ بہادو پاک ہو جائے گا من دو من گھی،تیل یا دودھ کا پھینکا نہ جائے گا،پتلی چیزوں کے پاک کرنے کے تین چار طریقے شامی وغیرہ نے لکھے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4123