Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4106

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُوْمَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي ثعلبة قال: حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم لحوم الحمر الأهلية. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوثعلبہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پالتو گدھے کے گوشت کو حرام فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وحشی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے،پالتو گدھے کی حرمت میں گفتگو ہے۔جمہور علماء کے نزدیک گدھا حرام ہے۔حضرت شریح،حسن،عطا ابن ابی رباح،سعید ابن جبیر،حماد ابن ابی سلمہ سے مروی ہے کہ وہ اسے حلال کہتے ہیں۔(مرقات)مگر عام فقہاء مجتہدین حرام کہتے ہیں،ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہےاور یہ آیت "وَالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡھَا وَزِیۡنَۃً"۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے،خچر، گدھے کھانے کے لیے نہیں بلکہ سواری باربرداری اور آرائش کے لیے ہیں،اس لیے آیت کریمہ میں گھوڑے، کھچر اور گدھوں کو ملاکر بیان فرمایا ہے اور ان تینوں کا ایک ہی مقصد بیان فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ یہ تینوں جانور حرام ہیں،یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔
پہچان: حرام و حلال جانور پہچاننے کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ دریائی جانور سارے حرام ہیں سواء مچھلی کے،خشکی کے بے خون والے جانور سارے حرام ہیں سوا ٹڈی کے۔خون والے خشکی کے جانور دو قسم کے ہیں:پرندے اور چرندے۔پرندے جانور شکاری پنجے والے حرام ہیں،باقی حلال۔چرندے جانوروں میں کیڑے مکوڑے حرام ہیں جیسے سانپ چوہے گوہ وغیرہ ان کے علاوہ کیل والے شکاری جانور حرام ہیں باقی حلال ہیں،یہ ہی مذہب حنفی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4106