Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4145

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ، وَالنَّحْلَةِ، وَالْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن ابن عباس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل أربع من الدواب: النملة، والنحلة، والهدهد، والصرد. رواه أبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے چار جانوروں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎چیونٹی،شہد کی مکھی،ہدہد اورممولا ۲؎(ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱؎انکے مارنے کی ممانعت کی حکمتیں اس جگہ مرقات نے بہت ہی بیان فرمائیں وہاں ملاحظہ فرماؤ ہم بھی کچھ عرض کرتے ہیں۔
۲
؎کیونکہ یہ جانور حرام بھی ہیں اور بے ضرر بھی،ان کے قتل میں کوئی فائدہ بھی نہیں اور بلا فائدہ جانور کو قتل کرنا ممنوع ہے۔شہد کی مکھی بڑی مبارک ہےکہ اس کے منہ سے شہد اور موم ملتا ہے،بےضرر ہے اس کی پرورش کرنی چاہیے،اسے مارنا ممنوع ہے۔نملہسے مراد بڑی چیونٹی ہے جس کے پاؤں بڑے بڑے ہوتے ہیں وہ بالکل ہی بے ضرر ہوتی ہے۔یوں ہی ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کا خاص خادم ہے،اس کا کھانا حرام ہے،گوشت بدبودار بھی ہوتا ہے۔صردایک عجیب الخلقت پرندہ ہے اس کا سر بڑا ہوتا ہے،چڑیوں کا شکار کرتا ہے،اس کے پر بڑے ہوتے ہیں آدھے سفید آدھے کالے،اہل عرب اس کو منحوس جانتے ہیں،اس کی آواز سے یہ فال لیتے ہیں جیسے ہمارے ملک کے جہلاء اُلّو کو منحوس سمجھتے ہیں۔چھوٹی چیونٹی کو ذر بڑی چیونٹی کونملکہتے ہیں۔یہاں مرقات نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ ہدہد کے لیے زمین صاف شیشہ کی مثل ہے،وہ زمین کی تہ میں پانی دیکھ لیتا ہے اس لیے حضرت سلیمان نے ایک سفر میں ہدہد کو یوں فرمایا"مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الْہُدْھُدَ"کیونکہ آپ کو وضو کی ضرورت تھی ہدہد زمین کی تہ کاپانی بتاتا،جنات کنواں تیار کرتے آپ وضو فرماتے،یہاں ہی مرقات نے اس دعوت کا ذکر فرمایا جو ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی کی تھی۔یہاں مرقات نے جانوروں کے اقسام انکے احکام بہت شرح و بسط سے بیان فرمائے کئی صفحات میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4145