Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4132

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ. الْمَيْتَتَانِ: الْحُوْتُ وَالْجَرَادُ، وَالدَّمَانِ: الْكَبِدُ وَالطِّحَالُ". رَوَاهُ أحمدُ وابنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أحلت لنا ميتتان ودمان. الميتتان: الحوت والجراد، والدمان: الكبد والطحال". رواه أحمد وابن ماجه والدارقطني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہمارے لیے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے دو مردے تو مچھلی اور ٹڈی ہے ۱؎اور دو خون کلیجی اورتلی ہے۲؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دونوں جانور بغیر ذبح حلال ہیں کیونکہ ان میں بہتا خون نہیں اور ذبح کرنا اسی کو اللہ کے نام پر نکال دینے کے لیے ہوتا ہے جب وہ چیزیں ان میں نہیں تو ان کا ذبح بھی نہیں۔خیال رہے کہ مچھلی بہت قسم کی ہے اور ہر قسم کی حلال ہے بغیر ذبح کھانا درست ہے،بعض مچھلیوں میں خون نکلتا معلوم ہوتا ہے مگر وہ خون نہیں ہوتا بلکہ سرخ پانی ہوتا ہے اس لیے دھوپ میں سفید ہو جاتا ہے خون کی طرح نہ سیاہ پڑتا ہے نہ جمتاہے۔ فقیر نے خود اس کا تجربہ کیا ہے،بہرحال مچھلی بغیر ذبح حلال ہے۔
۲
؎یعنی کلیجی و تلی جما ہوا خون ہے اور حلال ہے۔یہ دونوں چیزیں گوشت نہیں اس لیے جو گوشت نہ کھانے کی قسم کھالےاور پھر کلیجی یا تلی کھا لے تو حانث نہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4132