Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4131

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَأَتَتِ الْيَهُوْدُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوْا إِلَى خَضَائِرِهِمْ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا لَا يَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهِدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم خيبر، فأتت اليهود فشكوا أن الناس قد أسرعوا إلى خضائرهم،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا لا يحل أموال المعاهدين إلا بحقها". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا تو یہود آئے انہوں نے شکایت کی کہ لوگوں نے ان کی سرسبز کھجوروں کی طرف جلدی کی ۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خبردار ذمہ والوں کے مال ناحق حلال نہیں۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎خضائرجمع ہےخضیرہکی،خضیرہاس کھجور کا نام ہے جس کے پھل ابھی کچے ہوں،ہرے ہوں،خضرۃسے بنا بمعنی سبزی یعنی مسلمان ہمارے باغوں میں پہنچے اور انہوں نے ہمارے ہرے پھل توڑکر کھائے نہ ہم کو قیمت دی نہ ہم سے اجازت لی۔
۲
؎یعنی چونکہ یہودخیبر ہمارے ذمی بن چکے ہیں اور ذمی سے بجز جزیہ اور مستامن سے بجز ٹیکس تجارت اور مال لینا جائز نہیں لہذا تم خیبر کے یہود کے مال سے کچھ نہ لو۔حقہاسے وہ ہی حق مراد ہے جو عرض کیا گیا یعنی جزیہ یا جس مال پر ان سے صلح ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4131