Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4138

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ: أَنَّهٗ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، وَقَالَ: "مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ ثَائِرٍ فَلَيْسَ مِنَّا. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن عكرمة عن ابن عباس قال: لا أعلمه إلا رفع الحديث: أنه كان يأمر بقتل الحيات، وقال: "من تركهن خشية ثائر فليس منا. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی فرماتے ہیں ۱؎کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ انہوں نے حدیث کو مرفوع کیا کہ وہ سانپوں کے قتل کا حکم دیتے تھے۲؎اور فرمایا کہ جو انہیں بدلہ کے خوف سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎اسقالکا فاعل یا تو عکرمہ ہیں یا اسناد کے ایک راوی ایوب ہیں یعنی عکرمہ یا ایوب کہتے ہیں کہ مجھے گمان غالب ہے کہ یہ حدیث مرفوع حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھمانے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی ہے،خود ان کا اپنا قول نہیں یعنی حدیث موقوف نہیں۔
۲
؎یہ حکم استحبابی ہے،مدینہ منورہ کی آبادی یعنی گھروں کے سانپوں کو مہلت دینے کے بعدقتل کیا جائے اور دوسری جگہ کے سانپوں کو فورًا دیکھتے ہی ماردیا جائے،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اب مدینہ منورہ کے گھروں کے سانپوں کوبھی فورًا قتل کردیا جائے،اس صورت میں یہ حدیث سانپ کو مہلت دینے کی حدیث کی ناسخ ہے۔
۳
؎یعنی ہماری سنت کا تارک ہے۔پہلے جہلاءعرب کہتے تھے اور جہلاء ہند اب تک کہتے ہیں کہ سانپ کو مارنے والے سے اس کی ناگنی بدلہ لیتی ہے اس لیے سانپ کو مت مارو۔اس فرمان عالی میں اسی خیال کی تردید ہے بھلا سانپنی یعنی ناگن کو کیا خبر کہ کس نے مارا ہے۔لوگوں میں مشہور ہے کہ مارے ہوئے سانپ کی آنکھوں میں مارنے والے کا فوٹو آجاتا ہے اس فوٹو سے ناگن قاتل کو پہچان لیتی ہے اس لیے سانپ کو مارکر اس کا سر جلا دیا جاتا ہے تاکہ آنکھوں میں فوٹو نہ رہے مگر یہ بھی غلط ہے اس کا سر جلادینا اسے مار ڈالنے کے لیے ہے، وہ لاٹھی کھاکر بیہوش ہوجاتا ہے لوگ مردہ سمجھ کرچھوڑ دیتے ہیں،وہ کچھ عرصہ بعد پھر ہوش میں آکر چلا جاتا ہے آگ میں جلانا اس لیے ہے تاکہ واقعی مر جائے۔خیال رہے کہ جب تک سانپ الٹا نہ پڑ جائے کہ پیٹ اوپر آجائے تب تک وہ زندہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4138