Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4141

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ العبَّاسِ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ، وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هٰذِهِ الْجِنَّانِ -يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارِ-، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن العباس قال: يا رسول الله! إنا نريد أن نكنس زمزم، وإن فيها من هذه الجنان -يعني الحيات الصغار-، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتلهن. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم چاہ زمزم کو صاف کرنا چاہتے ہیں اور اس میں یہ جنان یعنی پتلے چھوٹے سانپ ہیں ۱؎تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مار دینے کا حکم دیا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎جنانجیم کے کسرہ نون کے شد سے جمعجانّکی،بمعنی پتلا سانپ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"کَاَنَّہَا جَآنٌّ"عصا موسوی پتلے سانپ کی طرح ہوگیا یعنی زمزم کے کنوئیں میں چھوٹے سانپ بہت ہیں جن کے مارے بغیر کنوئیں کی صفائی نہیں ہوسکتی،پھر حضور والا کا ان سانپوں کے قتل کے متعلق کیا حکم ہے۔چاہ زمزم میں ایک حبشی گرکر مرگیا تھا حضرت عباس زمزم کے منتظم تھے،انہوں نے چاہ زمزم پاک کرنا چاہا تب یہ سوال کیا وہ چاہتے یہ تھے کہ اب کنواں پاک تو کرنا ہی ہے لاؤ س کی صفائی بھی کردو،اس کے کیچڑ وغیرہ سب نکال دو۔ (مرقات)
۲
؎ان سانپوں کے قتل کا حکم چاہ زمزم کی صفائی کے لیے ہے لہذا یہ حدیث آئندہ آنے والی حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4141