Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4115

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهٗ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الآخَرِ دَاءً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليغمسه كله، ثم ليطرحه، فإن في أحد جناحيه شفاء وفي الآخر داء". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اس ساری کو ڈبو دے پھر اسے پھینک دے ۱؎کیونکہ اس کے بازوؤں میں سے ایک بازو میں شفاء ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۲؎( بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ذباببنا ہےذبسے بمعنی دفع کرنا،مکھی کوذباباس لیے کہتے ہیں کہ اس کو بار بار دفع کیا جاتا ہے مگر یہ آتی رہتی ہے،ذباببمعنی دفع کی ہوئی چیز۔اس فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ مکھی نجس نہیں ہے پاک ہے اور چونکہ اس میں بہتا ہوا خون نہیں ہے اس لیے پانی،دودھ،شوربے وغیرہ میں ڈوب کر مرجانا اسے نجس نہیں کرتا،یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف یہ احتمال کہ شاید مکھی نجاست پر بیٹھ کر آتی ہو،شاید اس پر گندگی لگی ہو اس لیے یہ شوربا ناپاک ہوگیا ہو معتبر نہیں،شریعت ظاہر پر ہے۔
۲
؎حدیث بالکل ظاہری معنی میں ہے کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالٰی نے بہت جانوروں میں زہر و تریاق جمع فرمادیا ہے۔شہد کی مکھی کے منہ سے شہد نکلتا ہے جو بیماریوں کی شفاء ہے اور اس کے ڈنگ سے زہر نکلتا ہے جو بیماری ہے،بچھو کے ڈنگ میں زہر ہے اور خود بچھو کے جسم کی راکھ زہر کا علاج ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ مکھی پہلے زہریلا بازو ڈالتی ہے تم دوسرے بازؤوں کو غوطہ دے کر پھینکو،زہریلا بازو پہلے ڈالنا اس کی فطری بات ہے،دیکھو چیونٹی کو رب تعالٰی نے کیسی کیسی باتیں سکھادی ہیں،گندم جمع کرتی ہے اگر بھیگی گندم ہو تو اسے خشک کرتی ہے پھر ایسے طریقہ سے رکھتی ہے کہ آئندہ نہ بھیگ سکے،دو ٹکڑے کاٹ کر رکھتی ہے تاکہ اگ نہ جائے،دھنیہ کو نہیں کاٹتی کہ وہ ثابت بھی نہیں اگتا۔پاک ہے وہ رب بے نیاز جس نے بے عقل جانوروں کویہ سمجھ بخشی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر مخلوق کی ہر خاصیت سے خبردار ہیں حاکم بھی ہیں حکیم بھی صلی اللہ علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4115