Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4130

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ أَكْلِ لُحُوْمِ الْخَيْلِ وَالبِغَالِ وَالْحَمِيرِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن خالد بن الوليد: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير. رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خالد ابن ولید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے گھوڑوں،خچروں اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد،نسائی)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ گھوڑا حرام ہے جیسے کہ خچر وگدھا حرام ہے،اس کی تائید اس آیت کریمہ سے ہے"وَالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡھَا وَزِیۡنَۃً"۔ جس سے معلوم ہوا کہ گھوڑرے،گدھے اور خچر کی پیدائش سواری اور زینت کے لیے ہے نہ کہ کھانے کے لیے،نیز گھوڑا ذریعہ جہاد ہےحتی کہ غنیمت میں اس کابھی حصہ رکھا جاتا ہے،اس کو کھانے سے جہاد کے آلہ کی کمی ہوجانے کا خطرہ ہے۔الحمدلله!کہ عملًا تمام مسلمان امام اعظم کا قول مانتے ہیں،ہم نے عرب و عجم کہیں بھی گھوڑے کا گوشت کھاتے فروخت ہوتے مارکیٹ میں آتے نہ دیکھا۔
۲
؎یہ حدیث ابن ماجہ نے بھی روایت کی،منذری نے کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے،ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث منسوخ ہے،صحابہ کرام سے گھوڑا کھانا ثابت ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ حدیث قرآنی آیات اور دوسری روایات کی تائید سے قوی ہے۔جن صحابہ کرام نے گھوڑا کھایا وہ یا تو حرام ہونے سے پہلے کھایا یا انہیں ممانعت کی حدیث پہنچی نہیں،بے خبری میں کھایا۔(ازمرقات)ہم مرآت کے مقدمہ میں عرض کرچکے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ قدس سرہ کی احادیث کو ضعیف ثابت کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ امام اعظم کا زمانہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت ہی قریب ہے،وہاں اسنادوں میں ضعیف راوی ذرا مشکل سے ہی داخل ہوسکتے ہیں اگر بعد کے محدثین کوکوئی حدیث ضعیف ہوکر ملے تو امام اعظم کو یہ ضعف مضر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4130