Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5002

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلٰى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ اِبْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن سراقة بن مالك أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ألا أدلكم على أفضل الصدقة؟ ابنتك مردودة إليك ليس لها كاسب غيرك . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سراقہ ابن مالک سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بہترین صدقہ پر رہبری نہ کروں ۲؎تمہاری وہ بیٹی جو تم تک لوٹا دی جاوے تمہارے سواء اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ سراقہ ابن مالک ابن جعشم ہیں،قبیلہ بنی مدلج سے،آپ کے حالات بیان کیے جاچکے ہیں۔
۲
؎یہاں صدقہ سے مراد شرعی صدقہ واجبہ نہیں وہ تو اپنی اولاد کو جائز نہیں بلکہ مراد نیکی اور کار ثواب ہے۔ اس کا بہترین نیکی ہونا اس لیے ہے کہ اس میں حق قرابۃ کا ادا کرنا بھی ہے اوربے کس کی پرورش بھی ایک عصمت والی بی بی کی حفاظت بھی۔
۳
؎یعنی تمہاری وہ بیٹی جس کا خاوند فوت ہوگیا یا پاگل دیوانہ ہوگیا یا گم ہوگیا یا اس نے طلاق دے دی مگر لڑکی کسی مجبوری کی وجہ سے دوسرا نکاح نہیں کرسکتی یا اسے اچھا رشتہ ملتا نہیں اس لیے مجبورًا وہ میکے میں آگئی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا،اس کی پرورش کرنا بہترین صدقہ ہے کہ وہ اب بے آس ہوکر تمہارے سہارے پر تمہارے پاس آئی،بعض لوگ خود لڑکیوں کو اپنے گھر بٹھالیتے ہیں اسے بلاوجہ بسنے نہیں دیتے وہ یہاں مراد نہیں ایسے لوگ تو بڑے مجرم ہیں اس لیےمردودۃارشاد ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5002