Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4990

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ يَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُهٗ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهٖ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحْمِلُكُمْ عَلٰى هٰذَا؟ قَالُوا: حُبُّ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُحِبَّ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ أَوْيُحِبَّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ فَلْيَصْدُقْ حَدِيثَهٗ إِذَا حَدَّثَ وَلْيُؤَدِّ أَمَانَتَهٗ إِذَا أُؤْتُمِنَ وَلِيُحْسِنَ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَهُ

عن عبد الرحمن بن أبي قراد أن النبي صلى الله عليه وسلم توضأ يوما فجعل أصحابه يتمسحون بوضوئه فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: ما يحملكم على هذا؟ قالوا: حب الله ورسوله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من سره أن يحب الله ورسوله أويحبه الله ورسوله فليصدق حديثه إذا حدث وليؤد أمانته إذا أؤتمن وليحسن جوار من جاوره

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن وضو کیا تو حضور کے صحابہ آپ کے بقیہ وضو کو اپنے پر ملنے لگے ۱∞؎تو ان سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو اس پر کیا چیز ابھارتی ہے ۲؎وہ بولے الله اور رسول کی محبت۳؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جسے یہ پسند ہو کہ الله رسول سے محبت کرے یا اس سے الله رسول محبت کریں۴؎تو وہ جب بات کرے تو سچی کرے،جب امین بنایا جاوے تو امانت ادا کرے اور اپنے پڑوسی کا پڑوس اچھا نبھا ئے۵؎

شرح حدیث

۱∞؎تبرک کے لیے کیونکہ حضرات صحابہ کرام ہمیشہ حضور کے وضو کا پانی برکت کے لیے اپنے ہاتھوں اور منہ پر ملتے تھے کہ یہ غسالہ جسم اطہر سے مس ہوا ہے۔حضرت جبریل علیہ السلام کی گھوڑی کی ٹاپ کی خاک نے سونے کے بچھڑے میں زندگی پھونک دی تو جو پانی حضور کے عضو شریف سے مس ہوجائے اس کی تاثیر کا کیا پوچھنا۔ظاہر یہ ہے کہ اس پانی سے وہ پانی مرادہے جو اعضاء شریف سے گرتا تھا غسالہ شریف اور ہوسکتاہے کہ اس سے وضو کا بقیہ پانی مرادہو پہلا احتمال قوی ہے دیکھو اشعہ۔ہمارے وضو و غسل کا غسالہ استعمال کے لائق نہیں،حضور کا غسالہ طیب طاہر بلکہ پاک کرنے والا ہے کہ ہمارا غسالہ ہمارے گناہ دھوکر نکلتا ہے حضور کا غسالہ نور لےکر گرتا ہے۔
۲
؎حضور انور کا یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید ہے ورنہ حضور انور کو تو ہر ایک دل کا ہر حال معلوم ہے۔شعر
اے فروغت صبح آثار و دھور چشم تو بینندہ ما فی الصدور
۳
؎یعنی حضور ہمارے محبوب ہمارے دلوں کے چین ہیں جو پانی حضور کے عضو سے مس ہو وہ ہی ہم کو پیارا ہے اس لیے اسے چومتے ہیں۔
۴
؎یعنی ہمارے غسالہ کو تبرکًا استعمال کرنا ممنوع یا بے کار نہیں بیشک اس سے برکت حاصل ہوتی ہے مگر الله رسول کی محبت کے لیے صرف یہ عمل کافی نہیں کہ یہ کام نفس پر گراں و بھاری نہیں یہ کام تو منافقین بھی کرلیتے ہیں الله رسول کی محبت کے لیے ان کی اطاعت و فرمانبرداری بھی ضروری ہے کہ وہ ہی نفس پر گراں ہے۔
۵
؎چونکہ یہ تین کام درستی معاملات کی جڑ ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔جو مسلمان معاملات درست کرلے گا اسے عبادات درست کرنا آسان ہوگا اور معاملات میں زبان سچی ہرقسم کی امانت کی ادائیگی اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک بڑی ہی اہم چیزیں ہیں۔کسی کو صرف اس کی عبادات اورکثرت نوافل سے نہ آزماؤ بلکہ معاملات سے آزماؤ،معاملات درست ہیں تو واقعی کامل ہے،آج بہت سے مسلمان ان ہی تین باتوں میں فیل ہوجاتے ہیں،نمازی حاجی بہت ہیں مگر سچے امتی تھوڑے،حضور صلی الله علیہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے ہی صادق الوعد امین کے لقب سے پکارے جاتے تھے کفارعرب ان القاب سے حضور کو یادکرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4990