Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4984

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَأٰى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَؤْوُدَةً . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَحَّحَهُ

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من رأى عورة فسترها كان كمن أحيا مؤودة . رواه أحمد والترمذي وصححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کسی کا خفیہ عیب ۱∞؎دیکھے پھر اسے چھپالے ۲؎تو اس شخص کی طرح ہوگا جو زندہ درگور بچی کو زندہ کرے۳؎(احمد، ترمذی)ترمذی نے اسے صحیح فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎وہ عیب جو کسی مسلمان کے حق سے متعلق نہ ہو اور یہ شخص اسے لوگوں سے چھپانا چاہتا ہو،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد مسلمان مرد یا عورت کا ستر ہے یعنی کسی کو ننگا دیکھے تو اسے کپڑا پہنادے ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں۔
۲
؎اس طرح کہ خود اس سے کہہ دے کہ دیکھ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا ورنہ پھر تیری خیر نہ ہوگی اور لوگوں سے چھپالے تاکہ تبلیغ بھی ہوجائے اور مسلمان کی پردہ پوشی بھی لیکن اگر یہ شخص کسی قتل یا نقصان کی خفیہ سازش کر رہا ہے تو ضرور اس کی اطلاع اس کو کر دے تاکہ وہ نقصان سے بچ جاوے یا اگر یہ شخص عادی مجرم بن چکا ہے تو اس کا اعلان کردے لہذا اس فرمان عالی کا یہ مقصد نہیں کہ خفیہ چور قاتل کے جرم چھپاؤ حضور صلی الله علیہ وسلم کا فرمان نہایت ہی جامع ہوتا ہے۔
۳
؎یعنی اس پردہ پوشی کا ثواب ایسا ہے جیسے کسی زندہ دفن شد بچی کو قبر سے نکال کر ان کی جان بچالینا کیونکہ مسلمان کی آبرو اس کی جان کی طرح قابل احترام ہے۔بہرحال مسلمان کی جاتی ہوئی عزت بچانا بڑا ہی ثواب ہے مگر وہ قیود خیال میں رہیں جو ہم نے عرض کیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4984