Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4973

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِيْنَ بيتٌ فِي يَتِيْمٌ يُسَآءُ إِلَيْهِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خير بيت في المسلمين بيت فيه يتيم يحسن إليه وشر بيت في المسلمين بيت في يتيم يساء إليه . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں میں بہترین گھر وہ گھر ہے جس میں یتیم ہو جس سے اچھا سلوک کیا جاتا ہو ۱∞؎اور مسلمانوں میں بدترین گھر وہ گھر ہے جس میں یتیم ہو جس سے برا سلوک کیا جاتا ہو ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یتیم سے سلوک کی بہت صورتیں ہیں: اس کی پرورش،اس کے کھانے پینے کا انتظام،اس کی تعلیم و تربیت، اسے دین دار نمازی بنانا سب ہی اس میں داخل ہے۔غرضکہ جو سلوک اپنے بچے سے کیا جاتا ہے وہ یتیم سے کیا جاوے یہ کلمہ بہت ہی جامع ہے۔
۲
؎برے سلوک میں مذکورہ چیزوں کی مقابل تمام چیزیں داخل ہیں،یتیم بچہ کو تعلیم تربیت کے لیے طمانچہ وغیرہ مارنا ظلم نہیں بلکہ اس کی اصلاح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4973