Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4987

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهٖ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهٖ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ :هٰذَاحَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خير الأصحاب عند الله خيرهم لصاحبه وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره .رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي :هذاحديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہیں جو اپنے ہمراہیوں کے لیے بہتر ہوں اور الله کے نزدیک بہترین ساتھی پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھے ہوں ۲؎(ترمذی، دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ساتھی سے مراد عام ساتھی ہیں مدرسہ کے ساتھی،سفر کے ساتھی،گھر کے ساتھی۔غرضکہ مسلمان کو چاہیے کہ ہر ساتھی کے ساتھ اچھا سلوک کرے،ان کی خیر خواہی کرے،ان سے اچھا برتاوا کرنا،انہیں بری باتوں سے روکنا،اچھی راہ دکھانا سب ہی اس میں داخل ہے۔
۲
؎عبادات کی درستی سے بھی زیادہ اہم ہے معاملات کی درستی،پڑوسی سے ہر وقت معاملہ رہتا ہے اس لیے اس سے اچھا برتاوا کرنا بہت ضروری ہے،اس کے بچوں کو اپنی اولاد سمجھے،اس کی عزت و ذلت کو اپنی عزت و ذلت سمجھے،پڑوسی اگر کافر بھی ہو تب بھی پڑوسی کے حقوق ادا کرے۔حضرت بایزید بسطامی رحمۃ الله علیہ کا یہودی پڑوسی سفر میں گیا اس کے بال بچے گھر رہ گئے رات کو یہودی کا بچہ روتا تھا آپ نے پوچھا کہ بچہ کیوں روتا ہے یہودن بولی گھر میں چراغ نہیں ہے بچہ اندھیرے میں گھبراتا ہے اس دن سے آپ روزانہ چراغ میں خوب تیل بھرکر روشن کر کے یہودی کے گھر بھیج دیا کرتے تھے،جب یہودی لوٹا اس کی بیوی نے یہ واقعہ سنایا یہودی بولا کہ جس گھر میں بایزید کا چراغ آگیا وہاں اندھیرا کیوں رہے وہ سب مسلمان ہوگئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4987