Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4964

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتّٰى ظَنَنْتُ أَنَّهٗ سَيُوَرِّثُهُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة وابن عمر رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ اور ابن عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ مجھے جناب جبریل پڑوسی کے متعلق مجھے حکم الٰہی پہنچاتے رہے ۱∞؎حتی کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں وصیت سے مراد اصطلاحی وصیت نہیں بلکہ تاکیدی حکم مراد ہے اور حکم کس کا احکم الحاکمین کا نہ کہ حضرت جبریل کا،کہ حضرت جبریل حضور کے حاکم نہیں حضور کے خادم ہیں رب کی طرف سے فرمان رساں فیضان رساں ہیں۔یوصینیسے مراد ہیں حضور کی امت کے لیے حضور کو حکم پہنچاتے رہے کہ آپ اپنی امت کو یہ حکم پہنچادو۔
۲
؎یعنی مجھے یہ خیال ہوا کہ الله تعالٰی مسلمانوں کو پڑوسی کی مالی میراث میں شریک کردیں گے کہ قرابت کی طرح یہ وصیت بھی میراث پانے کا ذریعہ ہوجاوے گی حضور کی میراث مرادنہیں کہ حضرات انبیاءکرام کی مالی میراث کسی کو نہیں ملتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4964