Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4977

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسٰى عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهٗ مِنْ نُحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ :هٰذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ

وعن أيوب بن موسى عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما نحل والد ولده من نحل أفضل من أدب حسن .رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان وقال الترمذي :هذا عندي حديث مرسل

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ایوب ابن موسیٰ سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو ۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مرسل ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ایوب ابن موسیٰ ابن اشدق عمرو ابن سعید ابن عاص ابن امیہ تابعی ہیں،فقہاء میں سے ہیں،عطاء اور مکحول سے روایت کرتے ہیں،یہاں دادا سے مراد عمرو ابن سعید یا سعید ابن عاص ہیں،سعید ابن عاص ہجرت کے سال پیدا ہوئے،عثمان غنی کے زمانہ میں قرآن جمع کرنے والوں میں آپ بھی تھے،عہد عثمانی میں کوفہ کے گورنر رہے،طبرستان کے فاتح آپ ہی ہیں، ۵۹؁∞ انسٹھ میں وفات ہوئی۔(مرقات و اشعہ)۲؎اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار متقی پرہیزگار بنانا ہے اولاد کے لیے اس سے اچھا عطیہ کیا ہوسکتا ہے کہ یہ چیزیں دین و دنیا میں کام آتی ہیں۔ولدمیں لڑکیاں لڑکے دونوں ہی داخل ہیں،ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں انہیں دیندار بناکر جائیں جو خود انہیں بھی قبر میں کام آوے کہ زندہ اولاد کی نیکیوں کا ثواب مردہ کو قبر میں ملتا ہے۔
۳
؎عن جدہمیں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اس سے ایوب کے دادا مراد ہوں یعنی عمرو ابن سعید تب تو یہ حدیث مرسل ہےکہ عمرو بھی صحابی نہیں تابعی ہیں۔دوسرے یہ کہ ایوب کے والد کے دادا سعید ابن عاص مراد ہیں تو حدیث متصل ہے کہ سعید ابن عاص صحابی ہیں،امام ترمذی نےجدہسے مراد ایوب کے دادا عمرو ابن سعید لیے اس لیے مرسل کہا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4977