Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4960

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيْمٌ رَفِيقُ الْقَلْبِ لِكلِّ ذِي قُرْبٰى وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ. وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيْكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفٰى لَهٗ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهٗ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَ الشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عياض بن حمار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أهل الجنة ثلاثة: ذو سلطان مقسط متصدق موفق ورجل رحيم رفيق القلب لكل ذي قربى ومسلم وعفيف متعفف ذو عيال. وأهل النار خمسة: الضعيف الذي لا زبر له الذين هم فيكم تبع لا يبغون أهلا ولا مالا والخائن الذي لا يخفى له طمع وإن دق إلا خانه ورجل لا يصبح ولا يمسي إلا وهو يخادعك عن أهلك ومالك وذكر البخل أو الكذب و الشنظير الفحاش ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله نے جنتی لوگ تین ہیں ۱∞؎وہ حاکم جو عدل والا صدقہ والا توفیق والا۲؎اور وہ شخص جو رحم اور نرم دل ہو ہر قرابت والے پر۳؎اور وہ مسلمان جو پاک دامن سوال کرنے سے بچنے والا عیال دار ہو۴؎آگ والے پانچ ہیں وہ کمزور جس کی خود اپنی کوئی رائے نہ ۵؎جو کہ تم میں رہیں تمہارے تابع ہو کہ نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال ۶؎اور وہ خیانت والا جس کی ہوس ڈھکی چھپی نہیں رہتی اگرچہ معمولی چیز ہو مگر خیانت کرلیتا ہو ۷؎اور وہ شخص جو نہیں صبح کرتا نہیں شام کرتا مگر وہ تم کو دھوکہ دیتا رہتا ہے تمہارے گھر بار اور تمہارے مال میں ۸؎اور حضور نے کنجوسی اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا ۹؎اور بدخلق اور فحش گو ۱۰؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میری امت میں تین قسم کے لوگ یقینًا جنتی ہیں۔
۲
؎یعنی جسے الله حکومت بھی دے تو وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور سلوک کرے اسے خیر کرنے خیر کرانے کی توفیق ملے کہ حاکم درست ہوجانے سے رعایا خود درست ہوجاتی ہے۔
۳
؎یعنی عوام مسلمانوں پر عمومًا اور اپنے عزیز قرابت داروں پر خصوصًا مہربان ہو۔
۴
؎یعنی وہ مسلمان جو باوجود عیالدار ہونے کے کسی سے بھیک نہ مانگے گناہ کے قریب نہ جاوے۔
۵
؎یعنی اس میں اتنی عقل نہ ہو جو اسے برائیوں سے بچائے کبھی آخرت کے نفع نقصان کو سوچتا ہی نہ ہو جانوروں کی طرح صرف کھانے عیش کرنے کی فکر میں لگا رہے۔
۶
؎یعنی حلال بیوی رکھتے نہیں حلال روزی کماتے نہیں محنت سے جی چراتے ہیں،غیر عورتوں پر نظر حرام رکھتے ہیں،غیروں کا مال ناجائز طور پر کھانے کے درپے رہتے ہیں یہ لوگ نرے دوزخی ہیں۔
۷
؎یعنی اسے خیانت کرنے کی عادت ہوگئی معمولی چیز حقیر سی امانت میں خیانت کرنے سے باز نہیں رہتا یعنی وہ گنہگار بھی ہو ذلیل طبیعت والا بھی یہ بھی دوزخی ہے یہ عادات خالص دوزخیوں کے ہیں۔
۸
؎صبح شام سے مراد ہمیشہ ہے یعنی وہ دھوکہ دینے کا عادی ہوچکا ہو تم سے جب بھی کلام یا کوئی معاملہ کرے دھوکہ ہی دے یہ بھی دوزخی ہے۔
۹
؎چونکہ راوی کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے وہ الفاظ طیبہ یاد نہ رہے جو حضور نے بخل اور جھوٹ کے متعلق فرمائے اس لیے راوی نے اس طرح بیان کیا،اگر اسے الفاظ طیبہ یاد ہوتے تو باقاعدہ بطریق روایت ارشاد کرتے۔
۱۰
؎شنظیر فحاشبخل وکذب کا معطوف ہے تو نصبی حالت میں ہے یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے شنظیر اور فحاش کا بھی ذکر فرمایا کہ وہ بھی دوزخی ہیں۔شنظیربروزنخنزیربمعنی بدخلق سخت طبیعت اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں مبتداء ہوں اوران کی خبرمن اھل النارپوشیدہ ہو تو یہ دونوں مرفوع ہوں گے،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںوالفحاشہے یعنیفحاشمعطوف ہےالشنظیرپر تب تو معنی بالکل ظاہر ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4960