Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4980

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهٗ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلٰى نَصْرِهٖ فَنَصَرَهٗ نَصَرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ. فَإِنْ لَمْ يَنْصُرْهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلٰى نَصْرِهٖ أَدْرَكَهُ اللّٰهُ بِهٖ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من اغتيب عنده أخوه المسلم وهو يقدر على نصره فنصره نصره الله في الدنیا والآخرة. فإن لم ينصره وهو يقدر على نصره أدركه الله به في الدنيا والآخرة . رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جس کے پاس اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جاوے ۱∞؎اور وہ اس کی مدد پر قادر ہو پھر وہ اس کی مدد کرے۲؎تو الله اس کی دنیا و آخرت میں مدد کرے گا۳؎لیکن اگر مدد پر قادر ہوتے اس کی مدد نہ کرے تو الله اس جرم پر اسے دنیا و آخرت میں پکڑے گا ۴؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کے سامنے کسی مسلمان کی غیبت کی جاوے خواہ وہ اس کا عزیز ہو یا اجنبی۔
۲
؎یا اس طرح کہ غیبت کرنے والوں کو غیبت سے روک دے یا اس طرح کہ ان کی غیبت کا جواب دے دے یا اس طرح کہ اس غائب شخص کے اوصاف بیان کردے اسے بدنامی سے بچاکر نیک نام کردے،آج کل لوگ غیبت سنتے رہتے ہیں پھر اس غائب شخص کو آکر بتاتے ہیں کہ تجھے فلاں شخص نے یہ کہا تھا یہ ممنوع ہے کہ اس صورت میں اس کے دل کو تکلیف اس نے پہنچائی غیبت کرنے والوں نے تیر چلایا اس نے وہ تیر اس تک پہنچایا اس کے جسم میں چبھویا۔
۳
؎کیونکہ اس نے الله کے بندے کی پس پشت مدد کی محض الله کے لیے اور رب تعالٰی اپنے بندے کا بدلہ خود دیتا ہے دنیاوی آفات اخروی مصیبتوں سے بچانا الله کی بڑی ہی مہربانی ہے۔
۴
؎یعنی جو کوئی مسلمان بھائی کی عزت و آبرو نہ بچائے بلکہ ذلیل کرنے والوں کے ساتھ شریک ہوجاوے تو الله تعالٰی اس بندے کا بدلہ خود لے گا کہ اسے دنیاو آخرت میں ذلیل کرے گا جب اس پر کوئی آفت بنے گی تو اسے دفع نہ کرے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4980