Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4975

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ آوٰى يَتِيمًا إِلٰى طَعَامِهٖ وَشَرَابِهٖ أَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُ الجَنَّةَ أَلْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ. وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ أَوْ مِثْلَهُنَّ مِنَ الْأَخَوَاتِ فَأَدَّبَهُنَّ وَرَحِمَهُنَّ حَتّٰى يُغْنِيَهُنَّ اللّٰهُ أَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُ الجَنَّةَ . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاِثْنَتَيْنِ؟ قَالَ: اَوْ اِثْنَتَيْنِ حَتّٰى لَوْ قَالُوا: أَوْ وَاحِدَةً؟ لَقَالَ: وَاحِدَةً وَمَنْ أَذْهَبَ اللّٰهُ بِكَرِيمَتَيْهِ وَجَبَتْ لَهُ الجَنَّةُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَمَا كَرِيمَتَاهُ؟ قَالَ: عَيْنَاهُ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من آوى يتيما إلى طعامه وشرابه أوجب الله له الجنة ألبتة إلا أن يعمل ذنبا لا يغفر. ومن عال ثلاث بنات أو مثلهن من الأخوات فأدبهن ورحمهن حتى يغنيهن الله أوجب الله له الجنة . فقال رجل: يا رسول الله واثنتين؟ قال: او اثنتين حتى لو قالوا: أو واحدة؟ لقال: واحدة ومن أذهب الله بكريمتيه وجبت له الجنة قيل: يا رسول الله وما كريمتاه؟ قال: عيناه . رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے ۱∞؎تو الله اس کے لیے جنت یقینی طور پر لازم فرمادیتا ہے مگر یہ کہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ناقابلِ بخشش ہو ۲؎اور جو تین بیٹیاں یا ان کی مثل بہنوں کی پروش کرے کہ انہیں ادب سکھائے ان پر مہربانی کرے حتی کہ الله انہیں بے نیاز کردے تو الله اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۳؎تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله اور دو کو فرمایا دو کو حتی کہ اگر لوگ کہتے یا ایک کو تو حضور فرما دیتے ایک کو۴؎اور الله جس کی پیاری دو چیزیں دور کردے اس کے لیے جنت واجب ہوگئی عرض کیا یارسول الله دو پیاری چیزیں کیا ہیں فرمایا اس کی دونوں آنکھیں ۵؎(شرح السنہ)

شرح حدیث

۱∞؎کھانے پانی میں شامل کرنا عام ہے خواہ اسے اپنے ساتھ کھلائے پلائے یا اسے اپنے گھر میں رکھ کر اس کی پرورش کرے یا یتیم خانہ بنا کر ان پر خرچ کرے۔اب تو یتیم خانہ والے یتیموں سے بھیک منگواتے ہیں مسلمانوں میں بھکاریوں کی تعداد بڑھاتے ہیں۔
۲
؎یعنی شرک و کفر کہ یہ گناہ قابل بخشش نہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"اسی طرح حقوق العباد بھی کسی نیک عمل سے معاف نہیں ہوتے وہ تو ادا کرنا ہی پڑیں گے یا حق والے سے معاف کرانا ہوں گے۔(مرقات)۳؎عمومًا بیٹوں سے دنیاوی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ یہ جوان ہوکر ہماری خدمت کریں گے ہمیں کما کر کھلائیں گے لڑکیوں سے یہ امید نہیں ہوتی اس لیے لڑکیوں کا پالنا ان پر صبرکرنا ثواب ہے۔لڑکیاں خواہ بیٹیاں ہوں خواہ بہنیں انہیں سکھانے سے مراد ہے علم دین سکھانا،سینا،پرونا اور جن ہنروں کی انہیں ضرورت ہے وہ سکھانا جس سے وہ کسی محتاج نہ رہیں۔
۴
؎اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ الله کی رحمتیں اور اس کی بخشش حضور کے قبضہ میں دی گئی ہیں جس نعمت کو چاہیں عام فرمادیں(مرقات)دیکھو جو وعدہ تین لڑکیوں کے پالنے پر کیا گیا تھا ایک امتی کے سوال پر وہ ہی وعدہ دو بیٹیوں کے پالنے پر ہو گیا یہ ہے حضور کا مختار من الله ہونا۔حضور کے مختار کل ہونے کے دلائل ہماری کتاب سلطنت مصطفی میں ملاحظہ کرو۔
۵
؎آنکھوں سے مراد آنکھوں کی روشنی ہے اگرچہ تمام اعضاء الله کی نعمت ہیں اور ہم کو پیاری مگر آنکھیں وہ نعمت ہیں جن کی مدد سے سارے اعضاء کام کرتے ہیں،آنکھوں کے بغیر انسان محض دیوار بن کر رہ جاتا ہے اس پر صبرکرنا بہت ہی ثواب ہے، الله تعالٰی اپنے فضل و کرم سے حضور کے صدقہ سے ہماری آنکھیں بھی رکھے اور ثواب بھی عطا فرمائے وہ تو بڑا کریم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4975