Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4972

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللهِ إكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرَ الْغَالِي فِيهِ وَلَا الْجَافِي عَنْهُ وَإِكْرَامَ السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ .رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم وحامل القرآن غير الغالي فيه ولا الجافي عنه وإكرام السلطان المقسط .رواه أبوداود والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله کی تعظیم میں سے ہے بوڑھے مسلمان اور حامل قرآن کا احترام ۱∞؎جو حامل قرآن نہ تو اس میں زیادتی کرے نہ اس سے دور رہے ۲؎اور عادل بادشاہ کا احترام کرنا ہے ۳؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎سفید ڈاڑھی والے مسلمان کا احترام،خود رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جب وہ دعا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو وہ کریم اس سے شرم فرماتا ہے کہ ان ہاتھوں کو خالی پھیرے تو بندہ اس کا احترام کیوں نہ کرے۔حامل قرآن میں حافظ،عالم دین،قاری،مفسر،ہمیشہ تلاوت کرنے والا سب ہی داخل ہیں سب کا احترام چاہیے۔(مرقات)۲؎یعنی وہ حامل قرآن وہ عالم و حافظ قابلِ تعظیم ہیں جو بدمذہب بیدین نہ ہو جو قرآن کو لوگوں کے گمراہ کرنے کا ذریعہ بنائیں اس کی غلط تاویلیں کریں،اس میں خیانتیں کریں،اس کے ذریعہ مسلمانوں میں فتنہ فساد پھیلائیں ان پر تو خدا تعالٰی کی بھی پھٹکار ہے بندوں کی بھی۔(مرقات)شعر
حافظا میخوردرندی کن و خوش باش وے دام تزدیر مکن چوں دگراں قرآن را
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر تاویل سے کرسکتے ہیں قرآن پاژند
۳
؎منصف حاکم عدل والا بادشاہ الله کی رحمت ہے جس کے سایہ میں الله کی مخلوق آرام پاتی ہے وہ رعایا کے لیے مثل مہربان والد کے ہے اس لیے اس کا احترام ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4972