Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4996

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَضٰى لِأَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي حَاجَةً يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهٗ بِهَا فَقَدْ سَرَّنِي وَمَنْ سَرَّنِي فَقَدْ سَرَّ اللّٰهَ وَمَنْ سَرَّ اللهَ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قضى لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر الله ومن سر الله أدخله الله الجنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو میری کسی امتی کی حاجت پوری کرے اس سے اس کی خوشی چاہتا ہو ۱∞؎تو اس نے مجھے خوش کیا ۲؎اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے الله کو خوش کیا۳؎اور جس نے الله کو خوش کیا الله اسے جنت میں داخل کرے گا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس حاجت روائی سے اس بندہ مؤمن کو خوش کرنا چاہتا ہو محض ایمانی رشتہ کی بنا پرکسی اور وجہ سے نہیں۔
۲
؎یعنی اس امتی بندے کی خوشی سے مجھے خوشی ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ تاقیامت حضور صلی الله علیہ وسلم کو ہر ہر شخص کے ہر ظاہر باطن جسمانی دلی حالات کی خبر ہے اگر حضور بے خبر ہوں اور مؤمن کی خوشی کا حضور کو علم نہ ہو تو آپ کو خوشی کیسے ہو۔
۳
؎اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نیک عمل سے مؤمن کو راضی کرنے اور مؤمن کی رضا کے ذریعہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو راضی کرنے کی نیت کرنا شرک نہیں ریا نہیں بالکل جائز ہے۔جب کہ اپنی نامود اور ناموری مقصود نہ ہو۔دوسرے یہ کہ خدا تعالٰی کی رضا صرف حضور کی رضا میں ہے بڑی سے بڑی نیکی جس سے حضور راضی نہ ہوں اس سے خدا تعالٰی ہرگز راضی نہ ہوگا لہذا ہر عبادت میں حضور کو راضی کرنے کی نیت کرنی چاہیے کہ یہ ذریعہ ہے رب کی رضا کا۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ جنت خدا تعالٰی کی خوش نودی سے ملے گی محض اپنے عمل سے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4996