Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4994

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ إِنَّ اللهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ فَمَنْ أَعْطَاهُ اللّٰهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهٗ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتّٰى يُسْلِمَ قَلْبُهٗ وَلِسَانُهٗ وَلَا يُؤْمِنُ حَتّٰى يَأْمَنَ جَارُهٗ بَوَائِقَهُ

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تعالى قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم إن الله يعطي الدنيا من يحب ومن لا يحب ولا يعطي الدين إلا من أحب فمن أعطاه الله الدين فقد أحبه والذي نفسي بيده لا يسلم عبد حتى يسلم قلبه ولسانه ولا يؤمن حتى يأمن جاره بوائقه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بے شک الله تعالٰی نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق تقسیم فرمادیئے ۱∞؎جیسے کہ تمہارے درمیان تمہاری روزی بانٹ دی اور الله تعالٰی دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی جسے ناپسند فرماتا ہے۲؎مگر دین اس کو دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے ۳؎تو جسے الله دین عطا فرمادے تو اس سے محبت کرتا ہے۴؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بندہ مسلمان نہیں ہوتا حتی کہ اس کا دل و زبان سلامت رہے ۵؎اور مؤمن نہیں ہوتا حتی کہ اس کا پڑوسی اوس کے شر سے امن میں ہو ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ظاہر روزیاں جسمانی غذائیں ہیں اور اخلاق و عادات روحانی غذائیں جیسے رب تعالٰی نے جسمانی روزی میں فرق رکھا ہے کہ بعض کی روزی حلال بعض کی حرام بعض کی فراخ بعض کی تنگ،یوں ہی بعض کے اخلاق اعلیٰ بعض کے خراب،اعمال احوال کا بھی یہ ہی حال ہے۔
۲
؎چنانچہ حضرت سلیمان و عثمان بڑے غنی ہیں یوں ہی فرعون،ہامان شداد بڑے مال دار ہیں دنیا ہر جگہ پہنچ سکتی ہے یہ تو حضور کے نام کی نچھاور ہے۔دولہا کی نچھاور دوست دشمن سب لوٹ لیتے ہیں،دنیا مل جانا محبوبیت کی علامت نہیں۔
۳
؎کیونکہ بارات کا کھانا،جوڑے انعام وغیرہ صرف دولہا کے دوستوں اور تعلق والوں ہی کو ملتے ہیں دین کائنات کے دولہا نبی کریم کے تعلق والے ہی پائیں گے۔دین الله تعالٰی کی بڑی نعمت ہے اس میں اختلاف ہے کہ غنی شاکر افضل ہے یا فقیر صابر۔
۴
؎یعنی کسی کو اچھے عقیدے اچھے اعمال کی توفیق ملنا اس کی علامت ہے کہ رب تعالٰی اس سے محبت کرتا ہے اپنی خاص نعمت خاص غلاموں کو دی جاتی ہے۔
۵
؎یعنی مؤمن کامل وہ ہی ہوگا جس کا دل بدعقیدگیوں،حسد،کینہ سے پاک و صاف ہو،سینہ کینہ سے پاک رکھو تاکہ اس میں انوار مدینہ جلوہ گر ہوں۔بہرحال عبادت سے زیادہ اہم معاملات ہیں الله تعالٰی ہمارے معاملات درست کرے۔
۶
؎چونکہ پڑوسی سے ہر وقت معاملہ رہتا ہے اس لیے زیادہ تعلق اسی سے ہوتا ہے جب پڑوسی ہی راضی ہو تو دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ راضی ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4994