Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4961

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا يُؤمِنُ عَبْدٌ حَتّٰى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لا يؤمن عبد حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی بندہ مؤمن نہیں ہوتا حتی کہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی پسندکرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ فرمان عالی حضور صلی الله علیہ وسلم کے جامع کلمات سے ہے ان چند لفظوں میں دونوں جہان کی خوبیاں جمع ہیں یعنی کوئی شخص مؤمن کامل اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے دینی و دنیاوی وہ چیز نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے اسی کا ترجمہ ہے کہ آنچہ بر خود نہ پسندی بہ دیگراں پسند۔خیال رہے کہ یہاں خیر مراد ہے ہر مسلمان کے لیے دنیاو آخرت کی خیر چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو۔اس خیر کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوتاہے کسی کے لیے دولت مندی خیر ہے، کسی کے لیے فقیری خیر،کسی کے لیے خلوت خیر ہے،کسی کے لیے جلوت خیر لہذا اگر خلوت نشین مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے جلوت چاہے جسے جلوت بہتر ہو تو اس فرمان کے خلاف نہیں۔تمام مسلمانوں میں پاور ایک ہی ہے مگر پاور کے اثرات مختلف ہیں جیسے پاور ہیٹر میں پہنچے تو گرمی دیتا ہے فریج میں پہنچے تو ٹھنڈک۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4961