Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4953

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰى عُضْوًا تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰى . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضوا تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت نعمان بن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت آپس کی محبت آپس کی مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے ۱∞؎کہ جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کامل مسلمان ایمان اسلامی رشتہ کی وجہ سے ایسے ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء جن کے نام بھی مختلف ہیں کام اور شکل و صورت بھی جداگانہ مگر چونکہ ان سب کی روح ایک ہے اس لیے ایک عضو کی تکلیف تمام اعضاءکو بے قرار کردیتی ہے،یوں ہی مختلف ممالک کے مسلمانوں کے نام،کام،زبان،غذا،دنیاوی رہن سہن مختلف ہیں مگر ان سب کا نبی حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم ایک ہیں لہذا ایک کی تکلیف سارے مسلمانوں کو بے قرار کردیتی ہے مگر یہ کیفیت زندہ مسلمانوں کی ہے جو مردہ یا بےحس ہوگئے وہ مردہ جسم یا سوکھے ہوئے اعضاء کی طرح ہیں کہ ایک کو چوٹ لگاؤ دوسرے کو خبر نہ ہو۔
۲
؎یعنی ایک عضو کو بیماری ہو تو سارے اعضاء بے قرار ہوکر اس کی تکلیف دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب تک اسے آرام نہ ہوجاوے یہ چین سے نہیں رہتے،یوں ہی ایک مسلمان کی تکلیف کو ساری قوم مل کر دفع کرتی ہے اس کے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی۔الله تعالٰی ہم سب کو اپنے محبوب سے وابستگی نصیب کرے اور ہمارے قوم کا یہ ہی حال ہوجاوے اب تو یہ حال ہے۔ مصرع! سوئی ہوئی قومیں جھاگ اٹھیں بیدارمسلما ن سوتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4953