Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4999

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعنهُ وَعَنْ عبد الله قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَلْقُ عِيَالُ اللّٰهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللّٰهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلٰى عِيَالِهٖ . رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعنه وعن عبد الله قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الخلق عيال الله فأحب الخلق إلى الله من أحسن إلى عياله . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ جناب عبدالله سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ خلقت الله کی پروردہ ہے ۱∞؎تو مخلوق میں الله کو بہت پیارا وہ ہے جو الله کے پروردوں سے اچھا سلوک کرے ۲؎ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎عیالکے معنی پروردہ بہت مناسب ہیں۔بال بچوں کو عیال اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ صاحب خانہ کے پروردہ ہوتے ہیں،قرآن کریم فرماتاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"رب تعالٰی نے تم کو بڑا ہی عیال والا پایا تو تم کو اتنا غنی کردیا کہ تم سارے جہان کو پال لو۔عائلًاکے یہ ہی معنی حضرت ابن عباس نے کیے،دیکھو بخاری شریف کتاب التفسیر یہ ہی آیت۔الله تعالٰی سب کا رازق ہے مخلوق اس کی مرزوق ہے لہذا اس کی عیال ہے یعنی پروردہ۔
۲
؎یعنی جیسے تم اس شخص سے بہت خوش ہوتے ہو وہ تمہارے غلاموں لونڈیوں بال بچوں سے اچھا سلوک کرے کیونکہ وہ تمہارے پروردہ ہیں ایسے ہی جو کوئی الله کی مخلوق سے بھلائی کرے الله اس سے خوش ہوتا ہے،دیکھو جو کوئی تمہارے بچوں نوکروں غلاموں کو کچھ دے تو تم پر قرض ہوجاتا ہے تم انتظار کرتے ہو کہ مجھے موقعہ ملے تو اس کے نوکروں کو خوش کروں،کسی بچے کی شادی میں تم نیوتا دو تو وہ تمہار ا قرض ہوتا ہے رب کے بندوں کو دو تو وہ رب تعالٰی پر قرض ہوتا ہے، فرماتاہے:"مَنۡ ذَاالَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4999