Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4988

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْن مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ أَوْ إِذَا أَسَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ. وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن ابن مسعود قال: قال رجل للنبي الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله كيف لي أن أعلم إذا أحسنت أو إذا أسأت؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إذا سمعت جيرانك يقولون: قد أحسنت فقد أحسنت. وإذا سمعتهم يقولون: قد أسأت فقد أسأت ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول الله میں کیسے جانوں جب کہ میں بھلائی کروں یا جب کہ میں برائی کروں ۱∞؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے بھلائی کی تو واقعی تم نے بھلائی کی اور جب تم انہیں کہتے سنو کہ تم نے برائی کی تو واقعی تم نے برائی کی۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے تو اپنے سارے کام ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر واقعہ میں اچھے کام اور برے کام کی علامت کیا ہے، یہاں کام سے مراد معاملات ہیں۔عقائد،عبادات میں کسی سے اچھا برا کہنے کا اعتبار نہیں۔
۲
؎یعنی معاملات میں اچھائی برائی کی علامت یہ ہے کہ تمہارے سارے پڑوسی قدرتی طور پر تم کو اچھا کہیں یا برا کہیں قدرتی بات ہے کہ بعض بندوں کے لیے خود بخود منہ سے اچھائی نکلتی ہے حضور فرماتے ہیںانتم شھداء الله فی الارض۔ مسلمانوں کی زبان رب کا قلم ہے پڑوسی چونکہ ڈھکے حالات سے خبردار ہوتے ہیں اس لیے یہاں پڑوسیوں کی قید لگائی گئی ورنہ اپنے متعلق خود فیصلہ نہ کرو کہ ہم اچھے ہیں یا برے،مخلوق کی زبان سے وہی نکلتا ہے جو رب نکلواتا ہے۔آج بعض قبر والوں کو لوگ ولی الله کہہ رہے ہیں ان کے مزارات پر میلے لگے ہوتے ہیں حالانکہ کسی نے ان کو دیکھا بھی نہیں یہ ہے خلق کی زبان۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4988