Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4974

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ لَمْ يَمْسَحْهٗ إِلَّالِلّٰه كَانَ لَهٗ بِكُلِّ شَعْرَةٍ تَمُرُّ عَلَيْهَا يَدُهٗ حَسَنَاتٌ وَمَنْ أَحْسَنَ إِلٰى يَتِيْمَةٍ أَوْ يَتِيْمٍ عِنْدَهٗ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من مسح رأس يتيم لم يمسحه إلالله كان له بكل شعرة تمر عليها يده حسنات ومن أحسن إلى يتيمة أو يتيم عنده كنت أنا وهو في الجنة كهاتين وقرن بين أصبعيه.رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے ۱∞؎نہیں پھیرتا مگر الله کےلئے ہر بال کے عوض جس پر اس کا ہاتھ پھرے نیکیاں ہوں گی ۲؎اور جو اپنے پاس رہنے والے یتیم یا یتیمہ سے بھلائی کرے جنت میں میں اور وہ ان کی طرح ہوں گےاور اپنی دو انگلیاں ملائیں ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ہاتھ پھیرنا محبت کے ساتھ ہو یا اس سے مراد ہے مطلقًا معمولی سی مہربانی حقیر سی محبت مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں،یتیم کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنا بھی عبادت ہے۔
۲
؎حدیث بالکل ظاہر معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں واقعی جو شخص اپنے عزیز یا اجنبی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے محبت و شفقت کا یہ محبت صرف الله رسول کی رضا کے لیے ہو تو ہر بال کے عوض اسے نیکی ملے گی۔یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے،اس کی خدمت کرے،اسے تعلیم و تربیت دے سوچ لو کہ اس کا ثواب کتنا ہوگا۔
۳
؎یعنی وہ جنت میں میرا ساتھی یا پڑوسی ہوگا جیسے بادشاہ کے خدام بادشاہ کی کوٹھی میں ہی رہتے ہیں مگر خادم ہوکر ایسے ہی وہ بھی میرے ساتھ رہے گا مگر میرا امتی غلام ہوکر۔یہاں بھیاحسنمطلق ہے یتیم بچہ سے کسی قسم کا سلوک ہو ثواب کا باعث ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم خود یتیم تھے اس لیے یتیم کی خدمت بڑی ہی اعلیٰ ہے۔ مصرع! یتیم ہو کے یتیموں کو پالنے والے۔ دو انگلیوں سے مراد کلمہ کی اور بیچ کی انگلی مراد ہے جن میں فاصلہ بالکل نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4974