Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4958

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يُظْلِمُہٗ وَلَا يُسْلِمُهٗ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللّٰهُ فِي حَاجَتِهٖ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المسلم أخو المسلم لا يظلمہ ولا يسلمه ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة .(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱∞؎نہ تو اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے ۲؎اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا الله اس کی حاجت میں رہے گا اور جو مسلمان سے کوئی تکلیف دور کرے گا اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا۳؎اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا قیامت کے دن الله اس کی پردہ پوشی کرے گا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمان مسلمان کا دینی و اسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لیے سگے بھائی کیطرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا ہے اور مسلمان کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے بھائی بنایا،حضور سے رشتہ غلامی قوی ہے ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور مسلمانوں کے بھائی نہیں حضور تو مثل والد کے ہیں اس لیے حضور کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں بھاوج نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن و مسلم ہم معنی ہیں کہ قرآن کریم نے مؤمنوں کو بھائی قرار دیا"اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ"اور حضور نے یہاں مسلمون کو۔(ازمرقات)خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ احکام کے اعتبار سے۔
۲
؎یسلمبنا ہےاسلامسے جس کا مادہسلمبمعنی سلامتی ہے ہمزہ سلب کا تو معنی ہوئے سلامت نہ رکھنا یعنی اسے ہلاک کردینا یا مدد کی ضرورت پر اسے بے یار و مددگار چھوڑ دینا۔
۳
؎سبحان الله!کیسا پیارا وعدہ ہے مسلمان بھائی کی تم مددکرو الله تمہاری مدد کرے گا،مسلمان کی حاجت روائی تم کرو الله تمہاری حاجت روائی کرے گا۔معلوم ہوا کہ بندہ بندہ کی حاجت روائی کر سکتا ہے یہ شرک نہیں بندہ بندہ کا حاجت روا مشکل کشا ہے۔
۴
؎یعنی اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھا دو کہ اس کی اصلاح ہوجائے اسے بدنام نہ کرو اگر تم نے ایسا کیا تو الله تعالٰی قیامت میں تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے لے گاتمہیں رسوانہ کرے گا،ہاں جو کسی کی ایذا کی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو اس کا اظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص ایذا سے بچ جاوے یا یہ توبہ کرے یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔غرضکہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا یا اس کی اصلاح کرنا بھی اچھا ہے یہ فرق خیال میں رہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب تعالی اس کی سات سو عیب پوشیاں کرےگا لہذاکربۃکی تنوین تعظیمی ہے اورسترہ اللهمیں سترمطلق بمعنی کامل ہے رب تعالٰی کی عطائیں ہمارے خیالات سے وراء ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4958