Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4971

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا مِنْ أَجْلِ سِنِّهٖ إِلَّا قَيَّضَ اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَ کِبَرِ سِنِّهِ مَنْ يُكْرِمُهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أكرم شاب شيخا من أجل سنه إلا قيض الله له عند کبر سنه من يكرمه . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کوئی جوان کسی بوڑھے کا اس کی عمر کی وجہ سے احترام نہیں کرتا مگر الله اس کے بڑھاپے پر اسے مقرر کرے گا جو اس کا احترام کرے ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو شخص بوڑھے مسلمان کا صرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے،اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں،یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے توان شاءاللهدنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے۔اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا آدمی دراز عمر بھی پائے گا دنیا میں مال،عیش، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے۔خود اس حدیث کے راوی حضرت انس نے حضور کی دس سال خدمت کی دیکھ لو کہ ان کی عمر ایک سو تین سال ہوئی ان کی زندگی میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو ہوئی یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ایک مخلوق نے ان سے احادیث روایت کیں،جہاں پہنچ جاتے تھے لوگ ان کی زیارت کے لیے جمع ہوجاتے تھے۔(مرقات)یہ ہے اس حدیث کا ظہور اور اس وعدہ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر و تفسیر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4971