Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4995

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المؤمن مألف ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف رواهما أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن الفت والا ہوتا ہے ۱∞؎اور اس میں خیر نہیں جو نہ الفت کرے نہ اس سے الفت کی جاوے ۲؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎مألفمصدر میمی ہے بمعنی اسم فاعل یعنی الفت والا کہ اسے الله تعالٰی اس کے محبوب صلی الله علیہ وسلم اور حضور کی امت سے الفت ہوتی ہے اور امت کو اسی سے الفت ہوتی ہے اس کی طرف دل خودبخود کھینچتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہمألفاسم ظرف ہو یعنی مؤمن الفت کی جگہ ہوتا ہے اس میں لوگوں کی الفتیں جمع ہوتی ہیں۔
۲
؎یعنی مسلمانوں سے وہ متنفر ہو اور مسلمان اس سے متنفر ہوں ایسا شخص نورِ ایمانی سے محروم ہے۔خیال رہے کہ مسلمانوں سے الفت رکھنا کچھ اور ہے لوگوں کی شر سے بچنے کے لیے علیٰحدہ رہنا کچھ اور ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ اپنا گھر واپس پکڑو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4995