Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4986

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَمٰى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ بَعَثَ اللّٰهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمٰى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ بِهٖ شَيْنَهٗ حَبَسَهُ اللّٰهُ عَلٰى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتّٰى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن معاذ بن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حمى مؤمنا من منافق بعث الله ملكا يحمي لحمه يوم القيامة من نار جهنم ومن رمى مسلما بشيء يريد به شينه حبسه الله على جسر جهنم حتى يخرج مما قال . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کسی مسلمان کو کسی منافق سے محفوظ رکھے ۱∞؎تو قیامت کے دن الله تعالٰی ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کے گوشت کی دوزخ کی آگ سے حفاظت کرے گا ۲؎اور جو کسی مسلمان کو کسی چیز کی تہمت لگائے اس کی بے عزتی کا ارادہ کرتا ہو۳؎تو الله اسے دوزخ کے پل پر روکے گا حتی کہ وہ اپنی اس بات سے باہر آجاوے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں منافق سے مراد غیبت کرنے والے کو اپنے عیب نہیں سوجھتے دوسرے کے نظر آتے ہیں یہ ہی منافق کا حال ہے یعنی غیبت کرنے والے سے اس مسلمان کی عزت بچائے۔
۲
؎اس طرح کہ وہ فرشتہ پل صراط پر اسے اپنے پروں میں ڈھانپ کرگزارے گا تاکہ اسے آگ کی تپش نہ پہنچنے پائے۔
۳
؎بے عزتی کے ارادہ کی قید اس لیے لگائی تاکہ معلوم ہو کہ کسی کی اصلاح کے لیے یا اس سے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اس کی غیبت درست ہے کہ وہ غیبت نہیں۔
۴
؎یعنی جتنی دیر تک اس نے غیبت میں اپنا وقت صرف کیا اتنی دیر تک پل صراط پر روکا جاوے گا۔حضرت شیخ نے فرمایا کہ جب تک اس سے معافی نہ مانگے تب تک وہ غیبت ہی میں مشغول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4986