Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4951

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَلسَّاعِي عَلَى الأَرْمِلَةِ وَالْمِسْكِينَ كَالسَّاعِي فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَأَحْسِبُهٗ قَالَ: كَالْقَآئِمِ لَا يَفْتَرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الساعي على الأرملة والمسكين كالساعي في سبيل الله وأحسبه قال: كالقائم لا يفتر وكالصائم لا يفطر (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بے شوہر والی اور مسکینوں پر خرچ کرنے والا الله کی راہ میں خرچ کرنے والے کی طرح ہے ۱∞؎مجھے خیال ہے کہ فرمایا اس کی طرح جو تھکے نہیں اور اس روزے دار کی طرح جو افطار نہ کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اراملجمع ہےارملکی جس کا مادہ رمل(ریگستان)چونکہ ریگستان باغات و سبزہ سے خالی ہوتا ہے اس لیے بے شوہر عورت کوارملہاور بے بی بی والے مرد کوارملکہتے ہیں خواہ کنوارے ہوں یا بیوہ یا خاوند نے طلاق دے دی ہو یا خاوند نے اسے معلقہ کر رکھا ہو اگر یہ فقیر ہے تو اس پر خرچ بھی کرے اور اس کا کام کاج بھی،اگر غنی ہے تو کام کاج کرے اس کا سودا سلف وغیرہ لا دیا کرے،لفظساعیان دونوں کو شا مل ہے۔ (مرقات و اشعہ)ایسے شخص کا ثواب تو مجاہد و غازی فی سبیل الله کی طرح یا اس کے برابر ہے یہ خدمت بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔
۲
؎یعنی جس قسم کا یا جتنا ثواب اس انتھک عابد کو ملتا ہے جو صائم الدہر قائم اللیل ہو اس قسم کا یا اتنا ثواب اس خدمت کرنے والے کو ملتا ہے۔احسبفرمانے والے حضرت ابوہریرہ ہیںقالکا فاعل حضور۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4951