Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4970

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ليس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يوقر كبيرنا ويأمر بالمعروف وينه عن المنكر رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں ۱∞؎جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ۲؎اور اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے۳؎ترمذی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضرات انبیاء کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے۔
۲
؎یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے،چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو خواہ علم کی خواہ درجہ کی یہ فرمان بہت عام ہے۔خیال رہے کہصغیرنااورکبیرنافرماکر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا ادب ان پر رحم چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لیے ہے ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیساکہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی ان کے حقوق قرابت ادا کرے۔(اشعہ)۳؎ہرشخص اپنی طاقت اور اپنے علم کے مطابق دینی احکام لوگوں میں جاری کرے یہ صرف علماء کا ہی فرض نہیں سب پر لازم ہے۔حاکم ہاتھ سے برائیاں روکے،عالم عام زبانی تبلیغ سے یہ فرض انجام دے فی زمانہ اس سے بہت غفلت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4970