Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4976

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهٗ خَيْرٌ لَهٗ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَنَاصِحٌ الرَّاوِي لَيْسَ عِنْدَ أصحابِ الحَدِيث بِالْقَوِيّ

وعن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأن يؤدب الرجل ولده خير له من أن يتصدق بصاع . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب وناصح الراوي ليس عند أصحاب الحديث بالقوي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص اپنے بچے کو ادب کی تعلیم دے اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ ایک صاع خیرات کرے ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ناصح راوی محدثین کے نزدیک قو ی نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنی اولاد کو ایک اچھی بات سکھانا خیرات کرنے سے افضل ہے کہ ایک صاع(ٹوپہ)ایک دن میں کھا کر ختم کیا جائے مگر ایک نیک بات کا فائدہ بچے کو عمر بھر پہنچے گا،اپنی لڑکیوں کو مال جہیز دینے سے بہتر یہ ہے کہ اعمال جہیز دیا جاوے،انہیں ایسی تعلیم و تربیت دو کہ وہ اپنی سسرال اپنی اولاد کو سنبھال لیں ہم نے ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جنہوں نے سسرال پہنچ کر سسرال کی کایا پلٹ دی سب کو ٹھیک کردیا۔
۲
؎یعنی یہ حدیث صرف ایک ہی اسناد سے مروی ہے اور اس اسناد میں ایک راوی ناصح بھی ہے جو حافظہ کا کمزور تھا اس لیے یہ حدیث ضعیف ہے مگر چونکہ یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے لہذا قبول ہے کہ فضائل میں حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے اس حدیث کی تائید احادیث صحیحہ اور آیات قرآنیہ سے ہے۔طبرانی نے باسناد حسن مرفوعًا روایت کی کہ الله تعالٰی تمہارے ذریعہ ایک کو ہدایت دیدے تو تمہارے لیے ساری دنیا سے افضل ہے اسی طرح آیات قرآنیہ میں اس کی تائید ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4976