Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4982

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَرُدُّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ يَّرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الآيَةَ:(وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤمنِينَ) رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن أبي الدرداء قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من مسلم يرد عن عرض أخيه إلا كان حقا على الله أن يرد عنه نار جهنم يوم القيامة .ثم تلا هذه الآية:(وكان حقا علينا نصر المؤمنين) رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوالدرداء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا فرماتے کہ نہیں ہے کوئی مسلمان جو اپنے بھائی کی آبرو سے دفعیہ کرے مگر الله کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس سے قیامت کے دن دوزخ کی آگ دفع فرمادے ۱∞؎پھر حضور نے یہ آیت تلاوت کی کہ ہم پر حق ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ فرمان عالی بہت ہی عام ہے جو کوئی کسی مسلمان کی آبرو کسی طرح بچائے خواہ اس کے سامنے یا اس کے پس پشت الله اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گا مسلمان کی عزت الله کو بڑی پیاری ہے۔
۲
؎یہ آیت کریمہ یا تو خود حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے تلاوت کی اپنے فرمان مبارک کی تائید میں یا حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ نے تلاوت کی اسی حدیث کی تائید میں۔دوستو! آج حضرات صحابہ پر بہت طعن ہورہے ہیں اٹھو ان کی عظمتوں کے ڈنکے بجاؤ دیکھو پھر رب تعالٰی اور اس کے محبوب صلی الله علیہ وسلم کے آستانوں سے کیسے انعام ملتے ہیں،ان حضرات کی حمایت میں کتابیں چھاپنا،تقریریں کرنا،ان کے فضائل کی آیت و احادیث شائع کرنا سب ہی قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔فقیر نے ایک رسالہ لکھا ہے حضرت امیر معاویہ پر ایک نظر جس میں حضرات صحابہ خصوصًا جناب امیر معاویہ رضی الله عنہم اجمعین کے فضائل کی احادیث و آیات جمع کرکے ان کے فضائل بیان کیے اور ان حضرات سے مخالفین کے اعتراضات دفع کیے خدا کرے یہ حقیر سی خدمت اس فرمان عالی کی برکت سے قبول ہوجاوے اور رب تعالٰی میری سیاہ کاریاں معاف فرمادے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4982